07 November 2010 - 15:35
خبر کا کوڈ: 2054
فونت
حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي :
رسا نيوزايجنسي - حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے درہ ادم خيل کي مسجد ميں بم دھماکے کي مذمت ميں نمازيوں پر حملہ کرنيوالوں کو درندے صفت کہا ?
علامہ ساجد نقوي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي، حجت الاسلام باقر نجفي، حجت الاسلام جعفر سبحاني اور ديگر نے درہ آدم خيل کي مسجد ميں نماز جمعہ کے بعد ہونے والا خودکش حملہ جو بے گناہ نمازيوں کي المناک شہادت کا سبب بنا غم و غصے کا اظہارکيا ?

ان حضرات نے اپنے بيان تاکيد کي : مساجد ميں حملہ کرنے اور بے گناہ انسانوں کو خون ميں نہلانے والے کسي قسم کي رعايت اور ہمدردي کے مستحق نہيں، ہم ايسے درندہ صفت انسانوں کے اس مکروہ فعل کو حقارت کي نگاہ سے ديکھتے ہيں?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ اسلام ہميں امن اور سلامتي کا درس ديتا ہے بيان کيا : کسي مظلوم اور بے گناہ کو وحشيانہ طريقوں سے قتل کرنا درندگي ہے?

انہوں نے پاکستان کے نااھل حکمرانوں کو خواب غفلت سے بيدار ہونے کي تاکيد کرتے ہوئے کہا : حکومت کو چاھئے کہ اس طرف خصوصي توجہ دے کيونکہ اس وقت پورا ملک دہشت گردي کي لپيٹ ميں اور حکمراں سب ٹھيک ہے کي بات کر کے عوام کي آنکھوں ميں دھول جھونک رہے ہيں?

اوردوسري جانب اہلسنّت والجماعت کے علماء نے بھي اس گھنونے کھيل کي مذمت کرتے ہوئے کہا : مسجد پر حملہ اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام ظلم کي انتہا ہے اور حکومت اس ظلم کو روکنے ميں بري طرح ناکام ہو چکي ہے?

انہوں نے مزيد کہا : کراچي سے خيبر تک قتل عام ہورہا ہے ، مزارات پر بم دھماکے ہوں يا خيبر پختون خوا ميں مساجد ميں بے گناہ نمازيوں کا قتل عام ہر جگہ خون نظرآتاہے?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬