
رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق خواتين مسلمان سينٹر کي چيئرمين اريکا تيسن اپنے ايک انٹر ويو ميں کہا : جرمن ميں مسلمانوں کي بھرتي اور روزگار خاص کر محجبہ خواتين کے لئے بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کو بہت محنت کرني پڑ رہي ہے کہ وہ کوئي کام تلاش کر سکيں ?
انہوں نے وضاحت کي : مسلمانوں کے ساتھ بہت تعصب کيا جا رہا ہے اور وہ خواتين جو حجاب کرتي ہيں ان کو کام حاصل کرنے کے لئے حجاب ترک کرنا پڑتا ہے ?
تيسن نے کہا : يہ سينٹر مستقبل قريب ميں مفکرين و سياستدانوں اور مسلمانوں کے سرگرم افراد اور سماجي کارکنان کے ساتھ جلسہ کا انعقاد کر کے مسلمانوں کے اس مشکلات کو بيان کر کے اس کے حل کے لئے کوئي راستہ نکالا جائيگا ?
انہوں نے وضاحت کي : جرمني وہ ملک ہے کہ اس ميں اسلام سے دشمني پائي جاتي ہے اور اس ملک کے مسلمان مذھب سے مرتبط ہونے کي بنا پر تعصب کا شکار ہوتے ہيں ?
قابل ذکر ہے کہ محجبہ مسلمان خاتون مروه شربيني اس ملک کے ايک متعصب شخص کے ذريعہ حجاب کي بنا پر قتل کر دي گئي تھيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے