18 July 2011 - 17:38
خبر کا کوڈ: 3031
فونت
آيت الله سبحاني :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله سبحاني نے اظہار کيا : اس وقت حديث کے مسئلہ ميں اسرائيليات ايک اھم مشکل ہے ، وہ روايات ہيں کہ جس کو توريت اور انجيل سے نقل کيا گيا ہے اور اس کو صحيح مسلم، تاريخ تبري و صحيح بخاري جيسي کتابوں ميں ذکر کيا گيا ہے ?
حضرت آيت الله جعفر سبحاني

رسا نيوز ايجنسي کے مشہد ميں موجود رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله جعفر سبحاني مرجع تقليد نے ا?ج صبح اپنے کلام اسلامي کے سلسلہ وار درس ميں جو مدرسه علميه عالي نواب کے ہال ميں منعقد ہوا کہا : اھل سنت کے عالم دين شاباطي سے نقل کرتے ہيں کہ بدعت نسبي يعني ايک شخص اپنے ا?پ سے عہد کرے کہ ھر ھفتہ ايک خاص روز روزہ رکھے گا ، يہ ايک نظر کے مطابق بدعت نہي ہے کيونکہ روزہ ہے ، ليکن دوسرے نظر سے يہ بدعت ہے کيونکہ خاص روز سے مختص ہوا ہے ؛ اسي ميزان کے لئے بدعت کہا گيا ہے يہاں پر مشخص ہونا چاہيئے کہ خدا کي طرف نسبت دي جاني چاہيئے اور لوگوں کے درميان بيان کيا جائے اور قرا?ن و سنت سے بھي اس کے جائز ہونے کے لئے دليل ہوني چاہيئے ? نسبي بدعت غلط ہے خدا کي طرف سے مشخص ہونے کي نسبت نہي دي جاتي ہے ?

اس کے بعد انہوں نے تفسير ميں بدعت کي وضاحت کرتے ہوئے بيان کيا : اس وقت وھابيوں نے ہجرت کے اول تين صدي کو حق و باطل کا معيار بنا رکھا ہے يعني ھر کام جو ان تين صدي کے بعد انجام دئے جا رہے ہيں اس کو بدعت کہتے ہيں ، لہذا کہتے ہيں کہ ھم لوگوں نے نہي ديکھا کہ مسلمان پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم کے روز ولادت پر جمع ہوتے تھے اور ان کے ولادت پر خوشي کا اظہار کرتے تھے ?

حوزہ علميہ قم کے استاد نے بيان کيا : شيعہ ان پر يہاں اعتراض کرتے ہيں کہ وھابي اس جگہ بدعت کے شکار ہو گئے ہيں کيونکہ ان کي دليل وہ حديث ہے کہ جو خود وہ لوگ اس کي طرف رجوع کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ و ا?لہ وسلم نے فرمايا «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي‌, ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ‌، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ‌، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ , ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ» لہذا اس سے وہ نتيجہ نکالتے ہيں کہ يہ تين صدي بہترين زمانہ ہے اور اس زمانہ ميں جو بھي کام ہوا ہے اس کو قبول کرے نگے اور اس کے بعد جو بھي امور انجام دے جائيے نگے اس کي کوئي قيمت نہي ہے وہ بدعت ہے ? يہاں پر قرن کا معني صدي نہي ہے بلکہ بيان ہوا ہے کہ ايک نسل ا?ئيگا اور دوسرا نسل اس کا نائب ہوگا اور ھر نسل کا زمانہ ايک قرن ہے نہ کہ قرن کا معني زمانہ ہے جس کو صدي کہا جاتا ہے يہ غلط ہے ? ( عربي زبان ميں قرن کا معني نسل ہے نہ زمانہ ) ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬