سبطين باقري جوراسي

رسا نيوز ايجنسي کے نامہ نگار کے مطابق ، حجت الاسلام سيد محمد سبطين باقري نے شب قدر کي اہميت اور اس کي برکات کو بيان کرتے ہوئے اھل لغت اور اصطلاح کے نظريہ کو بھي بيان کيا : قدر لغت ميں اندازہ اور اندازہ گيري کے معني ميں استعمال ہوا ہے ?
تقدير کے معني بھي اندازہ گيري اور معين کرنے کے ہيں? اصطلاح ميں قدر جھان کي خصوصيت اور ہر اس چيز کے وجود کو کہ اس کي خلقت کيسے ہوئي ہے کے معني ميں استعمال ہوا ہے?
دوسرے جملوں ميں اندازہ و ہر چيز کے وجود کو مشخص کرنے کو قدر کہا جاتا ہے?
باقري جوراسي نے فرمايا : حکمت الھي کي بناء پر اس نظام خلقت ميں ہر چيز ايک خاص اندازہ رکھتي ہے اور کوئي چيز بھي بغير حساب و کتاب کے نہيں ہے بلکہ يہ جھان قانون رياضي کي بنياد پر منظم ہے اور حساب و کتاب رکھتي ہے?اور ماضي حال مستقبل آپس ميں ارتباط رکھتے ہيں?
جناب شھيد مطھري قدر کي تعريف کو يوں بيان کرتے ہيں: قدر کے معني اندازہ اور معين کے ہيں?
اس جھان ميں جتنے بھي حادثات اور واقعات رونما ہوتے ہيں انکي مقدار جگہ اور وقت معين ہے يہ سب خدا کي قدرت سے ہے?
خدا وند عالم کا ارشاد ہے: {والذي قدّر فھدي} اعلي/3
جو اس بات پر دلالت کرتي ہے کہ تقدير لکھنے والا اور ھدايت کرنے والا خدا ہے?
چونکہ انسان وہ مخلوق ہے جو ارادہ اور اختيار رکھتي ہے?لہذا سعادت اور شقاوت کے راستہ کا انتخاب بھي اسي کے ارادہ و اختيار پر منحصر ہے?اسي ل? شب قدر ميں انسان کے سال بھر کے آيندہ کے اعمال کو ديکھتے ہو? اس کي تقدير لکھي جاتي ہے?
شب قدر ماہ رمضان کے آخري ايام کي راتوں ميں سے ايک رات ہے?
روايتوں کے مطابق شب قدر? انيسويں يا اکيسويں يا شب تئيسويں ماہ رمضان ہے ? اور اس رات کي بہت فضيلت ہے کيونکہ اس رات ميں قرآن کريم نازل ہوا ہے?
شب قدر ميں انسان کي نيکي? برائي? ولادت? موت? رزق? حج? اطاعت? گناہ? خلاصہ يہ کہ جتنے بھي افعال اور واقعات اس سال ميں اس کے اختيار سے انجام پائينگے وہ سب اسکي قسمت ميں لکھ ديئے جاتے ہيں?( کافي? ج 4 /ص 157 )
قدر کي رات ہر سال اور ہميشہ آتي ہے اس رات ميں عبادت کي فضيلت بيشمار ہے اس رات کو عبادت اور توبہ استغفار کي حالت ميں گزارنا? سال بھر کي اچھي تقدير لکھے جانے ميں مو?ثر ہے?
اس رات ميں? آيندہ سال کے تمام امور? امام زمانہ کي خدمت ميں پيش کي? جاتے ہيں اور وہ اپني و دوسروں کي تقدير سے با خبر ہوتے ہيں?
انہوں نے حديث بيان کرتے ہوئے کہا : امام باقر عليہ السلام فرماتے ہيں:( انہ ينزل في ليلة القدر الي ولي الامر تفسير سنةً سنةً يو مر في امر نفسہ بکذا و کذا و في امر الناس بکذا و کذا?)
شب قدر ميں ولي امر ( امام زمانہ) کي خدمت ميں سال بھر کے کاموں کي تفصيل پيش ہوتي ہيں وہ اپنے اور دوسرے لوگوں کے امور ميں حکم دينے پر ما مور ہوتےہيں?
امام باقر عليہ السلام اس آيہ " انّا انزلناہ في ليلة مبارکة" کے معني کے جواب ميں فرماتے ہيں?
شب قدر وہ رات ہے جو ہر سال ماہ رمضان کي آخري تاريخوں ميں اجاگر ہوتي ہے يہ وہ شب ہے جس ميں نہ صرف قرآن نازل ہوا ہے بلکہ خدا وند عالم نے اس رات کے ل? فرمايا ہے
?{ فيھا يفرق کل امر حکيم...} اس قدر کي رات ميں ہر وہ حادثہ اور امور جو سال بھر ميں ظاہر ہوگا جيسے نيکي برائي اطاعت اور معصيت يا وہ اولاد جسکو پيدا ہونا ہے يا وہ موت جو آئيگي يا وہ رزق جو ملے گا سب کے سب تقدير ميں لکھ ديئے جاتے ہيں?
اسي بناء پر قرآن کريم ميں شب قدر اور تقدير الھي کي جانب خاص توجہ پائي جاتي ہے کہ جو خصو صيت جھان اور انسان کے رابطہ کو خدا سے بيان کرتي ہے اگر ہر شخص اس رابطہ پر عقيدہ رکھے اور اسي کے مطابق حرکت کرے تو اسکي سال بھر کي تقدير لکھے جانے ميں زيادہ مو?ثر ہوگي?
روايتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شب قدر پيغمبراکرم(ص) کي رسالت کے دوران سے اختصاص نہيں رکھتي ہے بلکہ گذشتہ زمانہ ميں بھي اسکا وجود تھا
علامہ مجلسي امام محمد تقي(ع) سے نقل کرتے ہيں کہ آپ نے فرمايا ہے:(...لقد خلق اللہ تعالي ليلةاقدر اول ما خلق الدنيا ولقد خلق فيھا اول نبي يکون واول وصي يکون...) خداوند نے شب قدر کو اس دنيا کي خلقت کے آغاز ميں خلق کيا ہے اور اسي شب ميں اس نے اپنے پہلے نبي اور وصي کو قرار ديا ہے.
دوسري جانب رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے(ان اللہ وھب لامتي ليلة القدر لم يعطھا من کان قبلہم ) خدوند عالم نے ميري امّت کو شب قدر کي نعمت سے نوزا ہے جبکہ پہلے والي امّتوں کو يہ نعمت عطا نہيں ہوئ تھي ?
ان دونوں روايتوں کو جمع کريں تو يہ بات واضح ہو جاتي ہے کہ شب قدر کا وجود پہلے سے تھا ليکن اسکي فضيلتوں کو خداوند نے امّت اسلام سے مخصوص کر ديا جو پہلے والي امّتوں کو عطا نہيں ہوئ تھيں.
اس لي? شب قدر ايک حقيقي اور واقعي چيز ہے جس کو خداوند نے قرار ديا ہے.
سورہ? قدر کي آيتوں سے يہ بات ثابت ہوتي ہے کہ ہر سال ميں ايک شب "قدر" کے نام سے ہے.
جس کي فضيلت ہزار ماہ سے زيادہ ہے اس شب ميں اللہ کے فرشتہ بالخصوص روح الامين اللہ کے ہر فرمان اور تقدير کو جو کہ ايک سال کے لي? مقّرر ہوتي ہے ليکر نازل ہوتے ہيں.
وہ احاديث جو سورہ قدر اور سورہ دخان کي شروع کي آيتوں کے سلسلہ ميں وارد ہوئ ہيں ان احاديث سے يہ بات ظاہر ہوتي ہے کہ شب قدر ميں اللہ کے فرشتہ ايک سال کي تقدير کو امام زمانہ کي خدمت ميں عرض کرتے ہيں يہ واقعيت پہلے تھي اور آيندہ بھي رہے گي.
پيغمبر اکرم(ص) کي حيات ميں اللہ کے فرشتہ تقدير سال کو رسول اکرم(ص) کي خدمت ميں پيش کرتے تھے اس بات کو سبھي نے قبول کيا ہے.
اور پيغمبر(ص) کي رحلت کے بعد بھي شب قدر کا وجود قرآن کي آيات اور روايات سے ثابت ہے.
رشيدالدين ميبدي اھل سنّت کے معروف مفسر کہتے ہيں کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شب قدر پيغمبر(ص)کے زمانہ ميں تھي اور ان کے بعد ختم ہو گئ.
ليکن ايسا نہيں ہے کيونکہ تمام اصحاب پيغمبر(ص)اور علماء اسلام اس بات پر اعتقاد رکھتے ہيں کہ شب قدر قيامت تک باقي ہے.
شيخ طبرسي بھي اس سلسلہ ميں ابوذر غفاري سے روايت نقل کرتے ہيں کہ ابوذرنے پيغمبراکرم(ص) سے سوال کيا? اے پيغمبراکرم(ص) کيا شب قدر اور فرشتوں کا اس شب ميں نازل ہونا فقط پيغمبروں کے زمانہ ميں ہے اور پيغمبروں کے بعد شب قدر کا وجود نہيں ہے؟رسول اکرم(ص) نے فرمايا: نہيں? بلکہ شب قدر کا وجود قيامت کے دن تک ہے.
اس بات ميں شک نہيں ہے کہ شب قدر ماہ رمضان کي ايک شب ہے کيونکہ يہ بات قرآن کي آيات سے ثابت ہے خداوند کا ارشاد ہے {شھر رمضان الذي انزل فيہ القرآن}بقرہ185
دوسري جانب ارشاد فرماتا ہے:{ انّا انزلناہ في ليلة القدر }
ليکن يہ کہ رمضان کي کون سي شب ہے اس کے لي? روايات سے رجوع کرنا ضروري ہے
شيعہ اور اھل سنّت کي روايات ميں شب قدر کے سلسلہ ميں مختلف احتمالات دي? گ? ہيں.
مثلاً شب 29?27?23?21?19?17وغيرہ.
ليکن شيعوں کے درميان ائمہ(ع) کي روايات کي بنياد پر شب 23?21?19 کا احتمال زيادہ ہے.
انہوں نے روايت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : سيد ابن طاووس نے کتاب اقبال الاعمال ميں شب قدر کے سلسلہ سے متعدد روايتوں کو جمع کيا ہے. جنميں مجموعي طور سے شب 23?21?19ميں عبادت اور دعا کرنے کي بہت تا? کيد کي گئي ہے. امام صادق(ع) سے سوال کيا گيا شب قدر کو معيّن کريں آپ نے فرمايا اسکو اکيسويں اور تئيسويں شب ميں تلاش کرو. جب راوي نے چاہا امام ايک شب کو بيان کريں کہ کون سي شب? شب قدر ہے تو آپ نے فرمايا تمہارے لي? کيا مشکل ہے کہ تم دو شبوں ميں سے شب قدر کو تلاش نہيں کرسکتے ہو جبکہ مختلف روايتون ميں يہ بات آئي ہيکہ شب قدر رمضان کي تئيسويں شب ہے.البتہ ائمہ اطہار(ع) کے لي? شب قدر واضح ہے کيونکہ اس شب ميں فرشتہ ان پر نازل ہوتے ہيں ليکن ائمہ(ع) کا اصرار کئ شبوں کے لي? صرف اس لي? ہے تاکہ بندہ زيادہ سے زيادہ خداکي عبادت کريں.
ان تمام باتون پر توجہ کرنے سے يہ بات واضح ہو جاتي ہے کہ شب قدر ہر سال ميں ہوتي ہے اور صرف ايک بار ہوتي ہے تاريخ اور وقت کا اختلاف باعث نہيں ہوتا ہے کہ کئي شب قدر ہو
اس بنا پر روايات ميں تا?کيد کي گئ ہے کہ رمضان کے آخري 10 دن يا حد اقل شب ?19 ?21 23 ميں زيادہ سے زيادہ عبادت کي جا?.خود پيغمبر اکرم(ص) دھہ آخري رمضان ميں اعتکاف کرتے تھے. بعض بزرگان شيعہ نے شب قدر کو درک کرنے کے لي? پورے سال کي راتوں کو جاگ کر عبادت ميں گزارا ہے تاکہ وہ يقيني طور سے شب قدر کے ثواب کو حاصل کر سکيں بہر حال شب قدر صرف ايک شب ہے اور زيادہ احتمال يہ ہيکہ ماہ رمضان کي آخري 10 شبوں بالخصوص اکيسويں يا تييسويں شب ميں سے کوئ ايک شب ہے.
مو?منين اس شب کو درک کرنے کي کوشش کريں اور راتوں کو جاگ کر عبادت ميں بسر کريں
چونکہ شب قدر ميں فرشتوں کے نازل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سي بر کتيں بھي نازل ہوتي ہيں جنميں اھم ترين سال بھر کي تقدير کا معين ہونا ہے اسکے علاوہ فرشتوں کا جمعي طور سے نازل ہونا نورانيت اور برکت کا باعث ہوتا ہے يہ انسان کے لي? توبہ اور دعا کا بہت اچھا موقع ہوتا ہے اس ميں انسان اپنے درجات کو خداکي بارگاہ ميں بلند کرسکتا ہے اس طرح سے کہ انسان ايک شب کي عبادت سے ايک ہزار ماہ کي ارزش کو حاصل کر سکتا ہے.
اس بنا پر اگر چہ سال بھر کي تقدير کا اعلان امام کے لي? شب قدر کے ايک معين اور خاص وقت ميں ہوتا ہے ليکن پوري دنيا کے لوگوں کے لي? جو کہ افق ميں اختلاف رکھتے ہيں اس کا وقت امتداد رکھتا ہے اور اسطرح سے فرشتوں کے نازل ہونے کي برکت ان لوگوں کو شامل ہوتي ہے اور انکي تقدير بھي اسي اعتبار سے لکھي جاتي ہے يہ بات تقديروں کے ايک خاص وقت ميں حجت خدا پرنازل ہونے سے منافات نہيں رکھتي ہے.
اس لي? وہ لوگ جو کسي بنا پر شب قدر سے استفادہ نہيں کر سکے ہيں انکے لي? روايات ميں ذکر ہوا ہے کہ وہ لوگ دن ميں عبادت کريں کہ يہ بھي شب قدر کے مانند فضيلت رکھتا ہے اور جوبھي شب قدر کي فضيلت کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسکو حاصل ہوتي ہے .
اسي طرح سے روايات ميں وارد ہوا ہے جو ان شبوں سے استفادہ نہ کر سکے وہ عرفہ کے دن اور رات کا منتظر رہے تاکہ اپني تقدير کو اس دن معين کرسکے.
اس بنا پر ان اوقات کا معين کرنا نہ خداکے لي? محدوديت کا باعث ہوتا ہے اور نہ انسان کے لي? ليکن يہ اوقات انسان کو سرعت کے ساتھ کمال تک پہنچانے کي خصوصيت رکھتے ہيں.
اس لي? کہا گيا ہے کہ شب قدر کي دو قسميں ہيں ايک حقيقي اور ايک اعتباري .
شب قدر حقيقي وہ ايک خاص وقت ہے جسميں حجت خدا تقديرات کو دريافت کرتے ہيں اور يہ وقت تغير کے قابل نہيں ہے.
ليکن شب قدر اعتباري وہ وقت ہے جو کہ ممکن ہے 24 کھنٹہ يا اس سے کم و زيادہ تک امتداد رکھتا ہو اور اختلاف افق کي بنا پر ممکن ہے متعدد ہو مثلاً ممکن ہے ايک جگہ پر شب قدر ہو اور دوسري جگہ روز يعني ايک جگہ شب قدر تمام ہو گئ ہو اور دوسري جگہ شروع ہوئ ہو.
اسي لي? شب قدر اعتباري کي برکتيں اور رحمتيں قابل وسعت ہيں اور 24 گھنٹہ تک امتداد رکھتي ہيں يعني رات اور دن فضيلت کي اعتبار سے مشترک ہيں.
حجت الاسلام سيد محمد سبطين باقري شب قدر و تقدير سال کے سلسلہ ميں بيان کرتے ہيں : يہ کہنا کہ شب قدر ميں? سال بھر کي تقدير معين ہوتي ہے اس کے معني يہ ہيں کہ سال بھر ميں جو بھي امور اور واقعات ظاہر ہونگے يہ سب خود انسان کے ارادہ اور اختيار کي وجہ سے ہونگے چونکہ خدا وند ان سب چيزوں کو پہلے سے جانتا ہے کہ انسان آيندہ اس عمل کو اپنے اختيار سے انجام ديگا اس لي? خداوند اسکي تقدير ميں ان اعمال کو معين کرديتا ہے البتہ يہ تقدير کا معين ہوناشرائط کي بنياد پر ہوتا ہے?
اس گفتگو کو ملاحظہ کرتے ہو? کہ شب قدر کا رابطہ? بندوں کي تقدير کا معين ہونا? اور ان کا کردار اختياري ہونا يہ سب چيزيں روشن کرتي ہيں کہ "قدر" يعني ہر امور اور واقعات کا شکل اختيار کرنا اپنے سبب کے ساتھ قدر کي رات ميں جنکي پہلے سے تحقيق اور اندازہ گيري ہوتي ہے
اور ہر انسان کي تقدير سب سے پہلے امام زمانہ کي خدمت ميں پيش کي? جاتے ہيں?
ايک طرف تو خدا وند عالم نے اپنے حکيمانہ نظام کي بنياد پر جھان کو اس طرح مقدور کيا ہے کہ تمام چيزوں کا ايک دوسرے کے درميان ميں خاص رابطہ برقرار ہے ?مثال کے طور پہ لمبي عمر کا رابطہ صدقہ دينے? صفائي کا خيال رکھنے اور بعض گناہوں کے ترک کرنے سے برقرار ہے?
اب ہر وہ انسان جو لمبي عمر چاہتا ہے اسکے لي? ضروري ہے کہ وہ صدقہ نکالے اور صاف صفائي کا خيال رکھےتاکہ لمبي عمر پاسکے ? اور جنھوں نے ان امور کو انجام نہيں ديا اسميں کوتاہي برتي ہے انکي عمر کم ہوگي?
اس طرح انسان کے امور اور اختيار اور اسکے نتيجہ کے درميان مستقيم رابطہ وجود رکھتا ہے کہ وہي تقدير الھي ہے?انسان جب تک اس دنيا ميں زندہ ہے اسکے سامنے دو راستہ وجود رکھتے ہيں يا وہ اپنے حسن اختيار اور اعمال نيک کے ذريعہ سے کميل بن زياد نخعي ہو جا? يا پھر بد کرداري کو اختيار کرتے ہو? حارث بن زياد نخعي( قاتل فرزندان مسلم ) ہوجا? ?کميل اور حارث ايک ماں باپ کے بيٹے تھے? ايک نے نيکي کے راستہ کو اختيار کيا تو سعيد اور کامياب ہوا?
دوسرے نے برائي اور بد بختي کے راستہ کو اختيار کيا تو شقي اور بد کردار ہوا?
پس تقدير الھي يعني جو اپنے اختيار سے نيکي کے راستہ کو چن لے وہ کميل بنتا ہے اور جو اپنے اختيار سے برائي اور گناہ کے راستہ کو چن لے وہ حارث بنتا ہے?
دوسري جانب شب قدر ميں انسان کي تقدير اسکے آيندہ کے اعمال اختياري کو مد نظر رکھتے ہو? معين ہوتے ہيں ?
ان تمام گفتگو سے يہ بات واضح ہو گئي کہ تقدير الھي اختيار آدمي سے کوئي اختلاف نہيں رکھتي ہے کيو نکہ نتيجہ تک کام کا پہنچنا اور حادثہ کا ايجاد ہونا ان سب کي ايک علت خود انسان کا ارادہ ہے?
ہر وہ انسان جسنے اپنے حسن اختيار سے نيک کاموں کو انجام ديا اور خلوص نيت سے دعا وغيرہ پڑھي ہے تو وہ اس کے نتيجہ کو اسي دنيا ميں حاصل کرے گا?ليکن وہ انسان جس نے برائي کے راستہ کو اختيار کيا اور گناہ کا مرتکب ہوا ہے وہ اس کے تلخ نتيجہ کو چکھے گا?
شب قدر ميں بندوں کي تقدير ميں موت? حيات? ولادت? اور زيارت وغيرہ معين ہوتي ہے? اسي وجہ سے تاکيد کي گئي ہے کہ شب قدر ميں رات بھر بيدار رہيں اور دعا و عبادت ميں گزاريں تاکہ يہ عمل اس خاص رات ميں جو ہزار رات سے افضل و برتر ہے رحمت الھي کے نازل ہونے کے شرائط کو فراہم کر سکے?
دوسرے يہ کہ خدا وند عالم اس بات کا علم رکھتا ہے کہ کون سي شئ کب کہاں کس طرح اور کون سي شرائط و علت کے ساتھ محقق ہوگي
اور وہ يہ بھي جانتا ہے کہ فلاں انسان اپنے اختيار سے کب? کہاں? کس کام کو انجام ديگا. انسان کے اختياري فعل سے خدا بخوبي واقف ہے جسکي حد شب قدر ميں مشخص ہوتي ہے اور يہ بات انسان کے مختار ہونے سے اختلاف نہيں رکھتي ہے?مثال کے طور پر ايک تجربہ کار معلم يہ بخوبي جانتا ہے کہ کون طالب علم اپني محنت و کوشش سے اچھے نمبر سے کامياب ہوگا اور کون طالب علم اپني کم محنت کي وجہ سے متوسط نمبر سے کامياب ہوگا اور کون طالب علم اپني کوتاہي کي وجہ سے فيل ہوگا?يہاں پر معلم کا علم علت اور سبب کي وجہ سے ہے اسي طرح شب قدر ميں انسان کے تمام کردار اور اعمال اختياري کي تحقيق کے بعد خدا اپنے علم سے اسکي تقدير لکھتا ہے خدا وند عالم علت اور نظم جو اس جھان ميں موجود ہے اسکي بنياد پر برنامہ ريزي کرتا ہے ان تمام علتوں ميں سے ايک علت انسان کا اختيار ہے جو اسکي تقدير لکھے جانے ميں موثر ہے?سيد محمد سبطين نے ا?خر سخن ميں تاکيد کي : اسي وجہ سے ہميں تاکيد کي گئي ہے کہ ہم انيسويں اکيسويں اور تيئسويں شب ماہ رمضان ميں رات بھر عبادت و دعا ميں گزاريں تاکہ يہ نيک اعمال ہماري تقدير لکھے جانے ميں موثر ثابت ہو اورہم رحمت الھي کو درک کر سکيں?
اگر انسان کو اختيار نہ ديا گيا ہوتا تو ہم جو کچھ بھي انجام ديتے وہ ہماري تقدير ميں تاثير نہيں رکھتي. کوئي دليل اور تاکيد بھي اس بات پر دلالت نہيں کرتي کہ ہم رات بھر جاگ کر عبادت کريں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے