آيت الله مکارم شيرازي نے طالب علموں کو پيغام ميں ؛

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے طالب علموں کے نام اپنے پيغام ميں انگلينڈ کے اقدامات کي مذمت کرتے ہوئے انہيں ھوشيار رہنے اور دشمن کو موقع نہ دينے کي تاکيد کي ?
اس پيغام کا مکمل متن يہ ہے :
بسم الله الرحمن الرحيم
اس ميں کسي شک وشبہ کي گنجائش نہي کہ انگلينڈ کي حکومت سے ھماري ديرنہ دشمني ہے اور اس کي بے بجا مداخلتوں کي تلخ ياديں ھمارے ذھنوں ميں محفوظ ہيں ، اس حکومت نے جس طرح ھم سے دشمني وعناد کا اظھار کيا اس کا انکار نہي کيا جاسکتا ، اس نے خود تو خود دوسروں کو بھي پابنديوں کي دعوت دي کہ ان ميں سے بعض کاموں ميں اسے کاميابي نہ مل سکي ?
اور بخوبي جانتے ہيں سامراجي حکومتوں کا بنيادي مقصد ھماري علمي ترقيوں ميں روڑے اٹکانا اور ان کي غير قانوني منفعتوں کے مقابل تن دہي ہے کہ الحمد للہ وہ ابھي تک اس ميں کامياب نہي ہوسکے ہيں اور ھم اپني تمام شان وشوکت کے ساتھ کھڑے ہيں اور مستقبل ميں بھي خدا کي عنايتوں سے ايسے ہي کھڑے رہيں گے ?
مگر اھم يہ ہے کہ کبھي بعض جذباتي جوان سے قانون سے بالاتر کام کربيٹھتے ہيں جو دشمن کو موقع فراھم کرتا تاکہ اس ھمارے خلاف استعمال کرسکيں جس کے نتيجے ميں ھميں سنگين نقصانات کا سامنا ہوتا جيسے انگلينڈ کي سفارت پر اپ سبھي کے قبضے نے دشمن کو جنجال بپا کرنے کا موقع فراھم کرديا اور وہ پارليمنٹ کي کھائي ہوئي مار کا تدارک اس طرح کرنے کے درپہ ہيں جس ميں وہ إنشاء الله کامياب نہي ہوسکتے ?
ميں اپ سبھي کو پدرانہ نصيحت کرتا ہوں کہ ان حالات ميں ھرگز قانون کي لگام نہ چھوڑيں اور رھبر معظم انقلاب اسلامي و ذمہ دار افراد کي اجازت کے بغير قدم نہ اٹھائيں ، علاقے کے حالات مکمل طور سے ھمارے حق ميں اور ان کے نقصان ميں ہيں وہ اسي بناء حالات خراب کرنا چاھتے ہيں ھميں اس پر مکمل توجہ رکھني چاھئے اور ھوشياري سے کام لينا چاھئے ?
والسلام عليکم ورحمة الله وبرکاته
12/9/1390
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے