نئےسال پردفترقائد ملت جعفريہ کے دئے پيغام ميں؛

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے سال 2012 کے آغاز پر اپنے خصوصي پيغام ميں کہا ہے کہ سال گذشتہ بھي ارض پاک کے باسيوں کے لئے نا اميدي ، عدم تحفظ ، بے چارگي ،غربت ، افلاس ، پسماندگي اور ذہني اذيتوں کے سوا کچھ نہ دے پايا? خود کش حملوں ، بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگز اور فتنہ انگيزي جيسے مسائل کے گرداب اور مشکلات کے نرغے ميں گھرے مجبو ر و بے بس عوام اپنے دکھوں کے مداوے کے لئے کسي مسيحا کے منتظر دکھائي ديئے ?
اس پيغام ميں ايا : غم و اندوہ ميں ڈوبے اور حسرت و ياس کي تصوير بنے عوام يہ سوال کرتے دکھائي ديتے ہيں کہ آخر کس وقت پاک سرزمين سے بدامني و دہشت گردي ، قتل و غارتگري و فتنہ و فساد ، مہنگائي و غربت ، بے روزگاري ، بجلي و گيس کي لوڈشيڈنگ کے عذاب کا خاتمہ ہوگا اور لاتعداد مسائل ميں گھرے عوام اور خاندان خط غربت سے بھي نيچے گزاري جانے والي دردناک زندگي سے آزادي سے حاصل کريں گي?
ملک کي آزادي ، خود مختاري ، سالميت کے دفاع کے لئے عوام کي امنگوں کے مطابق اور نظريہ پاکستان کي اساس کي روشني ميں پاليسياں مرتب کي جائيں گي اور بيروني مداخلت کے خاتمے اور استعماري طاقتوں کے چنگل سے نجات حاصل کي جاسکے گي? ان کي اميدوں کي برآوري ، ان کي مشکلات کے خاتمے اور ملک کي ترقي و خوشحالي کي نويد لئے سورج کب طلوع ہوگا؟
حجت الاسلام سيد ساجد نقوي نے مزيد کہا : رسم دنيا ہے کہ جب نئے سال کا آغاز ہوتا ہے تو ہر ملک کے حکمران ، ہر سياسي و ديني جماعت کے قائدين ، تمام سماجي و انساني حقوق کي تنظيموں کے ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے حيات سے متعلق افراد تجديد عہد کے بيانات جاري کرتے ہيں کہ گذشتہ سال ہونے والي کوتاہيوں اور غلطيوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آئندہ سال احتياط کريں گے ليکن جب سال کا اختتام ہوتا ہے تو صورت حال پہلے سے بھي بدتر ہوتي ہي?
وطن عزيز گذشتہ سال بھي متعدد بحرانوں کي زد ميں رہا ہے جن ميں سے ہميشہ کي طرح دہشت گردي کا بحران سرفہرست رہا جس سے خاندان کے خاندان نگل لئے ليکن اس کے باوجود رياست کے ذمہ داروں کي طرف سے ٹھوس اور سنجيدہ اقدامات نہيں ہوئي ، نہ تو دہشت گردوں کے نيٹ ورک کو توڑا جاسکا ، نہ ہي بڑے بڑے سانحات کے پس پردہ حقائق منظر عام پر لائے گئے اسي طر ح دہشت گردوں کے سرپرستوں کو بھي نے نقاب نہ کيا گيا?
قائد ملت جعفريہ پاکستان نے کہا : گذشتہ سال ميں بھي امت مسلمہ کا وقار اور حيثيت مجرو ح رہي، عالم اسلام اس وقت نام نہاد سپرپاورز کا تختہ مشق بن چکا ہے نوبت يہاں تک پہنچ چکي ہے کہ اسلام جيسے آفاتي دين کو دہشت گردي اور انتہا پسندي کے ساتھ جوڑنے کي کوششيں جاري ہيں حالانکہ مسلمان دنيا بھر ميں بڑي تعداد ميں موجود ہيں?
اسلامي سربراہي کانفرنس جيسي تنظيم بھي موجود ہے ليکن امت مسلمہ کي عظمت رفتہ کي بحالي کے اقدامات تشنہ تکميل ہيں تاہم گذشتہ سال کے دوران يہ امر خوش آئند رہا کہ اسلامي بيداري کانفرنس کے ذريعہ امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات پر قابو پانے کے لئے پيش رفت ہوئي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے