سيد ساجد علي نقوي :

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے ملتان ميں جعفريہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن پاکستان کي مرکزي مجلس نظارت کے اجلاس سے صدارتي خطاب کرتے ہوئے کہا : بدلتے ہوئے عالمي حالات اور ملک کے موجودہ سياسي تناظر ميں تمام محب وطن طبقات کو ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانا لازمي ہے ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ اس سلسلے ميں طلبہ کے مثبت اور فعال کردار سے انکار ممکن نہيں تاہم مسائل کے گرداب اور مشکلات کے نرغے ميں گھرے عوام کو بدامني ، عدم تحفظ ، قتل و غارت گري ، مہنگائي ، بجلي و گيس کي لوڈشيڈنگ جيسے اہم مسائل سے نجات دلاکر امن و سکون، تحفظ اور ريليف فراہم کرنا بنيادي طور پر حکومت اور رياست کي اولين ذمہ داري ہے ?
قائد ملت جعفريہ پاکستان نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ اس وقت اسلامي اقدار اور اسلامي تہذيب و ثقافت کو اجاگر کرنے اورمغربي ثقافتي يلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے ميدان عمل ميں آنے کي ضرورت ہي کہا : مغرب اپنے منفي اور بے بنياد پروپيگنڈے کے ذريعے دين اسلام کے بے داغ اور شفاف چہرے کو مسخ کرنے کي ناکام سازشوں ميں مصروف ہے اور دہشت گردي اور انتہاپسندي کو اسلامي تعليمات سے نتھي کرنے کي مذموم کوششيں جاري ہيں جن کا مدلل اور ٹھوس انداز ميں جواب دينے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانا نہايت ضروري ہے اور اس مقصد کے حصول کي خاطر اپنے آپ جديد ٹيکنالوجي سے آشنا اور آراستہ کيا جائے ?
حجت الاسلام ساجد نقوي نے مزيد يہ کہتے ہوئے کہ ملک ميں عوام کي خدمت اور ملکي ترقي و خوشحالي کے لئے حقيقي جمہوريت کا فروغ بھي لازم و ناگزير ہے اور عوام کو باور کرايا جائے کہ درحقيقت قوت و طاقت کا سرچشمہ عوام ہيں کہا : سبھي اپنا جمہوري حق استعمال کرتے ہوئے ووٹر لسٹوں ميں اپنے ناموں کے اندراج و درستگي کے عمل کو مکمل کرکے اپني رائے کا بھرپور اور بہتر انداز ميں اظہار کرتے ہوئے بڑھ چڑھ کر حصہ ليں ?
قائد ملت جعفريہ پاکستان نے امت مسلمہ کے اتحاد و وحدت کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے اسلاميان پاکستان سے اپيل کي کہ وہ اپني صفوں ميں اتحاد و وحدت برقرار رکھتے ہوئے فرقہ وارانہ ہم آہنگي اور اتحاد بين المسلمين کے فروغ ميں عملي حصہ ليں اور ايسے شرپسند عناصر جن کا مکتب و مسلک فقط و فقط فرقہ پرستي ، دہشت گردي ، بدامني اور فتنہ انگيزي ہے ان سے اظہار برات کرکے ملک کو امن وآشتي کا گہوارہ بنائيں تاکہ عوام امن و چين اور سکھ کا سانس لے سکيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے