
الَّذِینَ یُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَیَخْشَوْنَهُ وَلَا یَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِیبًا /سورہ احزاب ، ایہ : 39
اس لحاظ سے کہ اخلاق انسان کی زندگی پر بہت زیادہ اثر انداز ہے، الهی معارف کے مبلغین کا نقش بہت اھم اور اساسی ہے.
ھمارے معاشرے کی موجودہ ضرورتوں میں سے ، تربیت کرنے والوں سے اشنائی اورایک ایسا رابطہ ہے جس میں کسی قسم کی دیوار حائل نہ ہوتاکہ مخاطبین کی ضرورتوں سے اورمشکلات کی اساس اشناہوکر ان کا حل نکالا جاسکے.
ادھے سے زیادہ مخاطبین کو خواتین تشکیل دیتی ہیں اوران پر تبلیغ کی اس لئے اور زیادہ ضرورت ہے کہ معاشرے میں انکا کردار ایک خاص حیثت کا مالک اور ھر نسل کی بقاء انکے دوش پر ہے.
مختلف علمی ، اقتصادی، سیاسی، اجتماعی، ثقافتی میدان میں خواتین کی موجودگی اس بات کی ضرورتمند ہے کہ ایسے خواتین اساتذہ کی تربیت کی جائے تاکہ معاشرے میں ھر قسم کی صالح خدمت کرسکیں اور معاشرے کے سچے خدمت گزار ہوں ، انکی دینی سرگرمیوں میں ابتداء ہی سے اخلاص خدا کا رنگ ڈال دیں اور اس عظیم توانائی سے معاشرے کی دینی خدمت کے سلسلے میں احسن طور پر استفادہ کریں.
اس سلسلے میں بہت ضروری ہےکہ ایک گروپ کی خاص طور پر تربیت کی جائے تاکہ وہ معاشرے کی ھدایت کی ضمہ داری اپنے دوش پر لے سکیں اور معاشرے کی یہ قشر جو اب بھی بہت ساری معلومات اور مسائل سے نااشنا ہے بطور کافی اگاہ ہوسکے اورھمارا معاشرہ ایک سالم اور صالح معاشرہ کہلا سکے .
اللهم وفقنا لما تحب و ترضی
مرضیه سادات هاشمی علیا