آيت الله مکارم شيرازي :

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله ناصر مکارم شيرازي نے 24 جلدي کتاب موسوعه الامام الحسين عليه السلام کے اجراء کے پروگرام ميں جو وزير تعليم کي موجودگي ميں مدرسه علميه امير المومنين عليه السلام ميں منعقد ہوا يہ بيان کرتے ہوئے کہ ھميشہ تاريخي واقعات کے ذھن پر نسيان کا گرد وغبار بيٹھ جاتا ہے اور اہستہ اہستہ واقعات فراموشي کے حوالے ہوجاتے ہيں کہا : تاريخ ميں جنگ جہاني جيسے حادثات بھي موجود ہيں جس ميں لاکھوں ادمي مارے گئے يہ جنگ تاريخ کے صفحات پر تو ملتي ہے مگراب اس کے سلسلے ميں کوئي گفتگو نہي کرتا ?
انہوں نے مزيد کہا : کربلا جيسے بعض حوادث وواقعات 1400 سال گذرنے کے بعد بھي اج بھي لوگوں کے ذھن وافکار ميں اسي تازگي کے ساتھ باقي ہيں ?
اس مرجع تقليد نے مادہ کي خصوصيت فنا اور نابودي بتاتے ہوئے کہا : بعض حوادث فطرت کے خلاف عمل کرتے ہيں اور جاودانگي پاليتے ہيں ، يہ وہ واقعات وحوادث ہيں جن کا رشتہ خداوند متعال سے جڑا ہوا ہے ، يہ رشتہ جس قدر بھي مضبوط ومستحکم ہوگا اس کي بقا کي مدت زيادہ ہے ?
انہوں نے ياد دہاني کي : واقعہ عاشور کا جس قدر بھي زمانہ گذرتا جاتا ہے اس کے مختلف جوانب واضح تر ہوتے جاتے ہيں اور لوگوں کا اس سے رابطہ بڑھتا جاتا ، جيسا کہ امسال ھم سبھي اربعين ميں کربلا جانے والي بھيڑ کے عيني شاھد تھے جنہيں کوئي ڈر وخوف نہي تھا اور دھشت گردانہ حملے نے ان کے قدم ميں لغزش نہ انے ديا ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے واقعہ عاشوراء کے جاوداني ہونے کے اسباب کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : امام حسين عليہ السلام کے پاس جو کچھ بھي تھا انہوں نے خلوص نيت کے ساتھ خدا کي بارگاہ ميں پيش کرديا ، خدا نے بھي اسي اخلاص کے نتيجے ميں کربلا کو ابديت وجاودانگي عطا کردي اور اسي بنياد پر کربلا اج بھي زندہ وپايندہ ہے ?
انہوں نے مزيد کہا : اج پوري دنيا ميں حسين عليہ السلام کے چاھنے والے پھيل چکے ہيں اور کربلا ميں کروڑوں زائرين کا جمع غفير تجب انگيز نہي ہے کيوں کہ ائندہ يہ چاھنے والے پوري دنيا پر چھا جائيں گے ?
انہوں نے عاشور کو دنيا کے مسلمانوں کے لئے عظيم سرمايہ بتاتے ہوئے کہا : اج ھم مسلمانوں کے ہاتھوں ميں عظيم سرمايہ ہے جس کي ھميں قدر جانني چاھئے اور اس سے بخوبي استفادہ کرنا چاھئے ?
اس مرجع تقليد نے کہا : موسوعه امام حسين عليه السلام قابل تحسين کام ہے جس سے بخوبي استفادہ کرنا چاھئے اور يہ منبع محققين کے لئے عظيم علمي سرمايہ ہے جو بہت ساري مشکلات کو حل کرے گا ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے