آيت الله جوادي آملي:

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حوزہ علميہ قم ايران ميں درس خارج کے معروف استاد حضرت آيت الله عبد الله جوادي آملي نے مسجد اعظم قم ميں علماء و طلاب کے درميان سورہ مبارکہ نمل کي تفسير بيان کرتے ہوئے کہا : خداوند متعال اس سورہ ميں وحي و نبوت اور حضرت موسي عليه السلام کے واقعات کي عظمت بيان کرنے کے بعد حضرت داود اور ان کي اولاد حضرت سليمان عليهماالسلام کے سلسلہ ميں مطالب بيان کئے ہيں اور حضرت سليمان عليہ السلام کے واقعہ کو اس سورہ ميں بيان کيا ہے ?
حوزہ علميہ قم ميں تفسير کے استاد نے ا?يہ شريفہ «و لقد آتينا داوود و سليمان علما و قالا الحمدلله الذي فضلنا علي کثير من عباده المؤمنين» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اھم ترين نعمت علم ہے لہذا ان دو پيغمبروں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے يہ علم عطا کي اور قرا?ن نے بھي ابتدا ميں اس علم کے سلسلہ کو پيش کيا ہے ?
حضرت آيت الله جوادي آملي نے اس ا?يہ شريفہ «حَتَّى إِذَا أَتَوْا عَلَى وَادِي النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاکِنَکُمْ لَا يَحْطِمَنَّکُمْ سُلَيْمَانُ وَ جُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ» ميں اس اشارہ کے ساتھ وضاحت کي : قتادہ وہ شخص ہے کہ امام معصوم عليه السلام نے اس سے سوال کيا : ميں نے سنا ہے کہ تم فتوا ديتے ہو ؟ اس نے جواب ميں کہا : جي ہاں ، حضرت نے فرمايا کس طرح فتوا ديتے ہو ؟ اس نے جواب ديا : قرا?ن کے مطابق ، حضرت نے فرمايا «کيف تفدي بالقرآن و ما ورثک الله من القرآن حرفا؛ کس طرح قرا?ن کے مطابق فتوا ديتے ہو حالانکہ خداوند نے قرا?ن کا ايک حرف بھي تم کو ارث ميں نہي ديا ہے » ?
انہوں نے وضاحت کي : اسي قتادہ نے کہا سلوني عما شئتم ! ( جو بھي سوال ہے مجھ سے پوچھو ) ابو حنيفہ اس وقت جوان تھا اس نے اس سے پوچھا کہ اس ا?يہ ميں جو چيونٹي ہے وہ مؤنث ہے يا مذکر ؟ قتادہ اس کا جواب نہي دے سکا ، ابو حنيفہ نے کہا وہ چيونٹي مؤنث ہے کونکہ خدا نے فعل «قالت» کا استعمال کيا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے