‫‫کیٹیگری‬ :
22 February 2017 - 17:49
خبر کا کوڈ: 426478
فونت
آیت ‎الله جوادی آملی:
مفسر عصر حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے کہا: قران کریم دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ قابل فھم اور دوسرا حصہ ناقابل فھم ہے ۔
حضرت آیت الله جوادی آملی

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، مفسر عصر حضرت آیت ‎الله جوادی آملی نے اپنے درس تفسیر قران کریم کے درس میں جو مسجد آعظم قم میں سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں منعقد ہوا ، سوره مبارکه طور کی آخری آیات « أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ ترجمہ : یا یہ کوئی مکاری کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھو کہ کفار خود اپنی چال میں پھنس جانے والے ہیں» کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: مکر ھمیشہ برا نہیں ہے ، بعض آیتوں میں جو کہا گیا ہے کہ خدا مکر کرتا ہے تو وہ بد نہیں ہے ، بلکہ فریب اورچالبازی بذات خود بد ہے ، اگر کوئی کسی انسان اور اس کے عمل نیک کے درمیان حائل ہوجائے تو اسے مکر بد کہا جاتا ہے ، اور اگر کسی انسان کو پہونچے والے نقصان کو روکنے کا پروگرام بنایا جائے تو اسے مکر خوب کا نام دیا جاتا ہے ، حیلہ کے لفظی اور لغوی معنی حائل کے ہیں ، مگر چوں کہ زیادہ تر اسے منفی اور قبیح کام میں استفادہ کیا جاتا ہے لوگ اسے برا سمجھتے ہیں ۔

انہوں نے قران کریم کی عظمت و رفعت کی جانب اشارہ کیا اور کہا: قران کریم ایک ایسے گلاس کے مانند ہے جس کا دونوں دو نیم حصہ بھرا ہوا ہے ، البتہ ادھا حصہ قابل فھم ہے اور ادھا حصہ ناقابل فھم ہے ، جیسا کہ اس نے سوره مبارکه زخرف نے فرمایا کہ «إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ترجمہ : بیشک ہم نے اسے عربی قرآن قرار دیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو » یہ گلاس کا وہ ادھا حصہ ہے جو عربی مبین ہے اور تفسیر کے درس میں قابل فھم ہے ، مگر گلاس کا دوسرا حصہ جو ناقابل فھم ہے اس کا سوره زخرف کی آیات میں تذکرہ کیا گیا ہے « وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ ترجمہ: اور یہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں نہایت بلند درجہ اور با حکمت کتاب ہے » یہ دوسرا حصہ «علی حکیم» ہے ، لھذا ائمہ معصومین کی بزم میں موجود اصحاب ھرگز یہ سوال نہیں کرتے تھے کہ یہ کس مقام پر تحریر ہے ۔

سرزمین قم ایران کے مشھور استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہماری آرزو اور تمنا اهل‎ بیت(ع) کی ناگفتہ بہ باتوں کو سمجھنا ہے کہا: ہماری یہ آرزو ہے کہ اهل‎ بیت(ع) ہمیں ان خاص علوم کو سیکھنے اور سمجھںے کی توفیق عنایت کریں ، ہمیں اپنے شاگرد خاص میں شمار کریں ، جیسا کہ آپ اهل ‎بیت(ع) نے خود فرمایا ہے کہ ان علوم کا جاننا ھر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ، آپ ہمیں ان علوم کا علم عطا کریں ۔

انہوں نے کہا: زیارت جامعه ، امامت و ولایت کی تفسیر ہے ، اگر حوزہ علمیہ میں اسے پڑھا جائے تو یقینا اهل ‎بیت(ع) ہمیں وہ خاص علوم عطا کریں گے ، ہم یہ نہ سوچیں کہ زیارت جامعہ فقط پڑھنے کی چیز ہے بلکہ زیارت جامعہ مکاسب و کفایه و جواهر جیسی کتابوں کے مانند ہے ، ہم اس زیارت کی بنیاد پر خداوند متعال سے اس توفیق کی درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں ان علوم کو عطا کرے جو کسی کو نہیں ملے ۔/۹۸۸/ ن۹۳۰/ ک۵۸۵

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬