28 June 2012 - 17:55
خبر کا کوڈ: 4287
فونت
رسا نيوزايجنسي – سعودي نيوزمراکز نے فاش کيا : سعودي انٹليجنس اور انتظاميہ نے مشرقي سعوديہ کے نامور عالم دين ، شيخ نمر کو ايک بار پھراپني حراست ميں لے ليا ?
شيخ نمر

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، ميڈليسٹ ائن لائن نٹ سائٹ نے ايک رپورٹ ميں ذکر کيا کہ سعوديہ کے شيعہ مذھبي ليڈراور نامور عالم دين ، شيخ نمر کو شھر قطيف ميں ان کے دوست کے گھر سے صبح چار بجے گرفتار کر کے شھر دمام بھيج ديا گيا ?

سعوديہ وزارت داخلہ نے اگر چہ اس سلسلے ميں کچھ بھي نہيں بتايا ، مگر معتبر مراکز کا نظريہ يہ ہے کہ سعوديہ کے نئے وزير داخلہ ، احمد بن عبد العزيز جو ايک مدت تک نائف کے نائب رہے ہيں ارادہ رکھتے ہيں کہ اپني ذمہ داريوں کے اغاز ہي ميں مذھبي اور سياسي سرگرم افراد کے ساتھ سختي رويہ رکھيں تاکہ اپنے مقام کي حفاظت کرسکيں ?

اسي سلسلے ميں کہا جارہا ہے کہ اس عالم دين کي گرفتاري کے بعد قطيف ميں ہائي الرٹ کردي گئي ہے اور ممکنہ مظاھرے کے پيش نظرسعوديہ کے حساس علاقے ميں مخصوص فورس لگا دي گئي ہے ?

شيخ نمر النمرسعوديہ کے شيعہ عالم دين ، سن 1959 ميں سعوديہ کے ديھات عواميہ ميں پيدا ہوئے ، اپ کے والد بزرگوار بحرين اور الاحساء کے نامورعالم دين ميں سے شمار کئے جاتے تھے ، اپ اپني حيات ميں متعدد بار گرفتار کئے گئے ? شيخ نمر نے اپني ديني تعليم ايران کے شھر قم اور تہران ميں حاصل کي اور اپ شعلہ بياني معروف ميں ہيں ? سعوديہ ميں اپ کے خطبے مشھور ہيں ?

اس شيعہ عالم دين نے اپنا اخري خطبہ نائف بن عبدالعزيز کي موت کے بعد ديا جس ميں انہوں نے اس کا مزاق اڑايا تھا اور يہ خطبہ ان کي گرفتاري کا سبب بنا ، محمد بن نائف نے اس گمان ميں انہيں گرفتار کرنے سے روک ديا تھا کہ سعوديہ کے شيعہ اس عالم دين سے اپني حمايت اٹھا ليں گے ، مگر احمد بن عبد العزيز نے منصب وزارت داخلہ پر بيٹھتے ہي اس شيعہ عالم دين کي گرفتاري کا اقدام کيا ?


تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬