آيتالله سبحاني:

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي مشھد مقدس سے رپورٹ کے مطابق ، مرجع تقليد حضرت آيت الله جعفر سبحاني نے کلام وعقائد اسلامي کي چوتھي نشست ميں جو اج صبح مدرسہ علميہ نواب مشھد مقدس ميں منعقد ہوئي کہا : اسلامي احکامات کي پابندي نہ کرنے والے ابتداء اسلام سے ليکر اج تک اسلامي احکامات ميں شبھات پيدا کرتے رہے ہيں ?
انہوں نے مزيد بيان کيا : کچھ لوگ يہ کہتے ہوئے کہ « پيغمبراسلام صل اللہ عليہ والہ وسلم کے زمانے ميں مرتد کو پھانسي نہيں دي گئي جبکہ اس زمانہ ميں يقينا مرتد رہے ہوں گے مگر انہيں کيوں نہيں قتل کيا گيا » دوسرے يہ کہ « بہت سارے مرتد مشکوک ہيں اور ان کے ذھنوں ميں سوالات ہيں لھذا اپ انہيں کيسے قتل کرسکتے ہيں ؟ » ?
انہوں نے کہا : کچھ افراد کا کہنا ہے کہ « مرتد کے سلسلے ميں روايات بہت کم ہيں » جبکہ يہ باتيں وہ کہے جو خود فقيہ ہو ، مرحوم کليني نے کتاب کافي ميں 23 روايتيں ، شيخ صدوق قمي نے من لايحضره الفقيه ميں 11 روايتيں ، شيخ طوسي نے کتاب تهذيب الاحکام ميں 30 روايتيں اور کتاب مستدرک الوسائل ميں روايات مذکور ہيں کہ اگر ان روايتوں کو يکجا کرديا جائے تو ضرورت سے بھي زيادہ ہوں گي ?
حضرت آيت الله سبحاني نے ايک شبھہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ « اگر مرتد کو پھانسي دي جائے تو معاشرہ ميں حرج ومرج اور بے نظمي پيدا ہوجائے گي » يعني يہ کہ جوکوئي بھي اپنے دشمن پر ارتداد کا الزام لگادے تو اسے قتل کرديا جائے گا اور يہ بے نظمي کا سبب ہوگا کہا : اس کا شبھہ کا جواب يہ ہے کہ مرتد واجب القتل ہے مگر موضوع ارتداد عدالت ميں ثابت ہونا ضروري ہے اور اس لحاظ سے مرتد ثابت کرنا اسان نہ ہوگا بلکہ نہايت دشوار کام ہوگا ?
انہوں نے مزيد کہا : اگر کوئي کسي کا مرتد ہونے کے الزام ميں قتل کردے اور وہ کوٹ ميں ثابت کرلے جائے تو بھي بعض فقہاء کے نظريہ کے مطابق اسے سزا دي جائے گي اور اگر ثابت نہ کرپايا تو اسے قتل کرديا جائے گا ?
اس مرجع تقليد نے بيان کيا : اگر انساني معاشرہ اور مغربي افراد ، اسلامي مجموعہ کا مطالعہ کريں تو اسلام کي جانب مائل ہوجائيں گے وگرنہ اگر ھم فقط اِنہيں شبہات کو ان کے لئے بيان کرتے رہيں گے تو وہ ھرگز اسلام نہيں لائيں گے ?
حضرت آيت الله سبحاني نيز بيان کيا : امام ھشتم حضرت علي ابن موسي الرضا(ع) کا جب نيشا پور سے گزر ہوا تو حديث ارشاد فرمايا جسے حديث سلسلة الذهب کا نام ديتے ہيں ، اھل سنت محدثين ميں سے احمد ابن حنبل کا کہنا ہے کہ اگر اس حديث کو ديوانے پر پڑھ ديا جائے تو باعقل ہوجائے گا اور اھل سنت نے لکھا کہ ھم نے بسا اوقات اس حديث کو لکھ کر مريض کے سرہانے رکھ ديا تو وہ مريض شفا يافتہ ہوگيا اور ھم شيعہ اس طرح کي احاديث کے ماننے والے ہيں ?
حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے بيان کيا : اھل سنت کے رجال کے بزرگ عالم دين ايک کتاب ميں جب حضرت رضا عليہ السلام تک پہونچتے ہيں تو لکھتے ہيں « ميں خراسان ميں طوس ميں ہوں اور جب بھي کسي مشکل سے روبرو ہوتا ہوں تو قبر علي بن موسي الرضا عليہ السلام پر دعا کرتا اور اپني حاجتيں لے ليتا ہوں » وہ جگہيں جہاں دوسرے اس دريا سے بہرہ مند ہوتے ہيں شيعہ بہتر بہرہ مند ہو ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے