
شیخ عبدرالقادر الکتانی شام کے نمایا اھل سنت علمای نے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفت و گو کی اور روز گذشته صوبہ سیستان و بلوچستان میں ہوئے ٹرورسٹی حادثہ جس میں تقریبا ۴۰ لوگ مارے گئے ہیں ان میں شیعه و سنی قبائل کے سردار اور اسلامی انقلاب ایران کے سپاہ و پاسداران کے فرناندار بھی شامل ہیں اس عمل کو شدت کے ساتھ محکوم کیا اور کہا : اس طرح کے وحشیانہ عمل کو کوئی بھی عقل یا شرع قبول نہی کرتی ہے اور کوئی بھی عاقل انسان اس طرح انسان کو قتل نہی کرتا یہ بہت ہی عجیب بات ہے کہ ایک انسان اسلام اور پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام پر بےگناہ افراد کو آسانی سے قتل کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا : وہ حادثہ جو صوبہ سیستان و بلوچستان میں رو نما ہوا اور ھر روز عراق میں ہوتا ہے ، یہ منحرف و خطرناک تکفیری نظریہ کا عملی نمونہ ہے جو امت اسلامی کے درمیان رخنا پیدا کر رہا ہے ۔
کتانی نے کیا : اس طرح کا طرز فکر و اندیشہ کسی بھی بنا پر جھان اسلام کا درد رکھنے والوں کا نہی ہے لھذا امت اسلام سے ان کا بساط تمام ہو جانا چاہیئے ۔
اھل سنت کے اس نمایا عالم دین نے اپنی باتوں میں جھان اسلام میں پیش آنے والی ھر طرح کے افراطی فکر چاہے وہ شیعه یا اھل سنی کی طرف سے ہو کہا : امت اسلامی میں قتل و غارت کو تمام کرنے کا بھتریں راستہ یہ ہے کہ اعتدال کے راستے کو اپنائیں اور ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کریں ۔
انہوں نے کہا اھل سنت کو ایسا کام نہی کرنا چاہیئے کہ شیعہ ان کو برا بھلا کہیں اور شیعہ حضرات بھی ایسا کوئی عمل نہ کریں کے ان افراطی لوگوں کو غلط کام کرنے کا موقع مل جائے ۔
کتانی نے تاکید کیا : تکفیری گروپ تقریب مذاھب اور شیعہ سنی اتحاد کے مخالف ہیں اور یہ مسئلہ کسی بھی بنا پر امت اسلامی کے لئے مثبت نہی ہے ۔