26 July 2012 - 23:05
خبر کا کوڈ: 4377
فونت
آيت‌ الله مکارم شيرازي :
رسا نيوايجنسي – آيت ‌الله مکارم شيرازي نے کہا : اگرعشق خدا کے ساتھ عظمت ودولت وشھوت کا بت بھي دل ميں ہو تو عشق خدا بے سود ہے، دلوں کو محبت خدا کے لئے خالص کريں کہ اس صورت ميں انسان کو مقام معرفت حاصل ہوگا ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت‌ الله ناصر مکارم شيرازي نے چھٹھي ماہ مبارک رمضان کو اپني سلسلہ وار تفسير کي نشست ميں جو شبستان امام خميني (رہ) حرم کريمہ اھلبيت (ع) حضرت معصومہ قم ميں منعقد ہوئي سورہ احزاب کي چوتھي ايت «ما جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ من قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَکُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِکُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءکُمْ أَبْنَاءکُمْ ذَلِکُمْ قَوْلُکُم بِأَفْوَاهِکُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ» کي تفسير کرتے ہوئے کہا : خداوند متعال نے اس ايت ميں خرافات عصر جاہليت کے تين نمونے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام کے تمام کو رد کرديا ہے ?

انہوں نے مزيد کہا : عصر جاہليت ميں لوگ معتقد تھے کہ انسانوں کے پاس دو دل ہيں اور ھرايک سے باتوں کو سمجھتا ہے، منافقين بھي پيغمبر اسلام (ص) کو دو دل کا انسان سمجھتے تھے کہ ايک دل ان کي طرف اور دوسرا خود کي جانب مائل تھا ?

حضرت آيت ‌الله مکارم شيرازي نے کہا : قران کريم کي متعدد اياتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ انسان دلوں کے ذريعہ مسائل کو سجمھتا ہے جب کہ اج کے دانشمند حضرات قائل ہے کہ انسان دماغ کے ذريعہ باتوں کو سمجھتا ہے دل کے ذريعہ نہيں ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ مفسرين نے اس سلسلے ميں بہت ساري تفسيريں کي ہيں کہا : ايک تفسير يہ ہے کہ دل کے دو معني ہيں ان ميں سے ايک معني عقل کے ہيں، بعض کا کہنا تھا کہ جب انسان کسي چيز کو دماغ سے سمجھتا ہے تو اس کا پہلا اثر دل پر پڑتا ہے اور دل تمام ادراکات کا مظھر ہے?

اس مرجع تقليد نے ڈاکٹروں کے ہاتھوں دلوں کے بدلے جانے کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : دوسروں کا دل لگانے کے بعد دل اسپشليسٹ ڈاکٹرس اس نتيجے تک پہونچے کہ جن لوگوں نے دل لگايا ہے ان کي شخصيتيں متغير ہيں، وہ اس مطلب کي بخوبي سمجھ چکے ہيں کہ دل کا انسان سے خاص رابطہ ہے اورحال ہي ميں «رمز و راز قلب» کےعنوان سے ايک کتاب بھي تحرير کي گئي، جن لوگوں نے دل بدلا ہے وہ معترف ہيں کہ ان کے حالات بدل چکے ہيں ?

قران کريم کے نامور مفسر نے انسان کو عجيب اور ناشناختہ موجود بتاتے ہوئے کہا : يہ تمام کا تمام خدا کي عظمت وقدرت کا بيان گر ہے ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ جو لوگ امام زمانہ (عج) کے عاشق ہيں ان کے دلوں ميں دوسروں کا عشق نہ ہو کہا : مفسرين نے ايات کي تفسيرميں جس نکتہ کي جانب توجہ کيا ہے وہ يہ ہے کہ؛ اي انسان تيرے پاس ايک دل ہے اس ميں ايک ہي فرد کا عشق رہے، يا خدا کا عشق رہے يا شيطان کا عشق ، حسين ابن علي کا عشق کا رہے يا يزيد ابن معاويہ کا عشق، جن کے دلوں ميں خدا اور اولياء الھي، امام زمان (عج) اور ديگر اھلبيت عليھم السلام کا عشق ہے ان کے دلوں ميں دوسروں کي محبت نہ رہے ?

حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے اصحاب حضرت امام علي (ع) ميں سے ميثم تمار کي شخصيت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : ميثم تمار کے دل ميں حتي دار پربھي امام علي عليہ السلام کي محبت تھي جب انہيں پھناسي دي جارہي تھي تو انہوں نے اوزادي کہ اي لوگوں ميرے ارگرد بيٹھ جاو کہ ميں علي (ع) کے فضائل بيان کروں ?

اس مرجع تقليد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ ھماري محبت ايک ہو اور وہ خدا اور اولياء الھي کي ہو کہا : اگرعشق خدا کے ساتھ عظمت ودولت وشھوت کا بت بھي دل ميں ہو تو عشق خدا بے سود ہے، دلوں کو محبت خدا کے لئے خالص کريں کہ اس صورت ميں انسان کو مقام معرفت حاصل ہوگا ?

اس مفسر قران کريم نے کہا : جو لوگ تقوي الھي اختيار کريں گے ان کے دل ميں ايک خاص نورانيت ائے گي جس سے وہ حق وباطل کے درميان فرق کرسکيں گے ، اميد ہے کہ اس ماہ پرخير وبرکت رمضان ميں خدا ھم سبھي کو يہ موقع فراھم کرے جس سے خود کو خالص کرسکيں اور غير خدا سے لگي لو توڑ ديں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬