08 August 2012 - 01:21
خبر کا کوڈ: 4420
فونت
قائد انقلاب اسلامي :
رسا نيوزايجنسي - قائد انقلاب اسلامي نے ممتاز طلبہ و طالبات سے ملاقات ميں معيشت کو منصفانہ اورعادلانہ نظريات کے مطابق ڈھالے جانے کي ضرورت پر زور ديا -
قائد انقلاب اسلامي

رسا نيوزايجنسي کي رھبر معظم انقلاب اسلامي کي رھبر معظم انقلاب اسلامي کي خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق، قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے پير کي شام ملک کے ايک ہزار کے قريب ممتاز طلبہ و طالبات سے خطاب ميں تاکيد کي : ايران کي معاشي پاليسيوں کو عادلانہ بنيادوں پر استوار ہونا چاہيے-

آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے سرمايہ داري کے بارے ميں اسلامي تعليمات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمايا کہ اگر آئين کي دفعہ چواليس پر اس کے ماحصل کے مطابق عمل کيا جائے تو ملک ميں مذموم سرمايہ داري کا خاتمہ ہوگا اور بڑے فيصلوں ميں سرماداري کو محور بنائے جانے کي روک تھام ہو سکے گي-

قائد انقلاب اسلامي نے تاکيد فرمائي کہ اس بات کا پورا دھيان رکھنے کي ضرورت ہے کہ معاشي پاليسوں پر سوشلسٹ نظريات غالب نہ آنے پائيں- آپ نے فرمايا کہ آئين کي دفعہ چواليس پر اس کي روح کے مطابق عمل کيا جائے تو عادلانہ معيشت کي تکميل کو يقيني بنايا جا سکتا ہے-

قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ مغرب اور يورپي ملکوں پر بڑھتے ہوئے اقتصادي بحران کي اصل وجہ سرمايہ دارانہ نظام کي اصليت يعني سرمايہ کي بالادستي ہے- آپ نے مزاحمتي معيشت کو جارحانہ معيشت سے بالکل مختلف قرار ديا اور اس بات پر تاکيد فرمائي کہ مزاحمتي معيشت سے مراد دفاعي اقدامات اور اپنے گرد دائرے کھينچنا نہيں ہے بلکہ يہ ايسي معيشت ہے جو کسي بھي قوم کے لئے دباؤ اور پابنديوں کے دوران بھي ترقي اور پيشرفت کا راستہ ہموار کرتي ہے-

آپ نے نوجوانوں کو سافٹ وار کے کمانڈر قرار ديتے ہوئے فرمايا کہ دشمن کے مقاصد کا باريک بيني سے جائزہ ليجيے کيونکہ دشمن ملت ايران اور ايراني حکام کے اندازوں اور ضابطوں کو تبديل کرنا چاہتا ہے- آپ نے فرمايا کہ عوام کے دل ، ذہن ، نظريات اور ارادے دشمن کے نرم حملوں کے نشانے پر ہيں اور دشمن کھل کر کہہ رہا کہ ہم ايرانيوں کے اصولوں اور ضابطوں کو تبديل کرنے کي کوشش کر رہے ہيں-

قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ دشمن چاہتا ہے کہ ايراني قوم اس نتيجے پر پہنچے کہ عالمي سامراج کے خلاف جنگ اس کے مفاد ميں نہيں ہے لہذا نرم جنگ کے کمانڈروں( طلبہ) کو دشمن کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے اس کا بھرپور مقابلہ کرنا چاہيے-

پير کي شام تقريبا ايک ہزار ممتاز طلبہ و طالبات نے ساڑے تين گھنٹے کے قريب قائد انقلاب اسلامي کے ساتھ بڑے محبت آميز اور اپنائيت بھرے ماحول ميں گفتگو کي? اس گفتگو ميں يونيورسٹيوں اور ملک کے علمي، ثقافتي، سماجي، سياسي و اقتصادي مسائل کا جائزہ ليا گيا?

ملاقات کے آغاز ميں سياسي، ثقافتي اور علمي شعبے ميں سرگرم عمل گيارہ طلبہ نے مختلف اسٹوڈنٹس يونينوں، تنظيموں اور مراکز کي جانب سے ڈھائي گھنٹے تک اپنے خيالات و نظريات بيان کئے? جس کے بعد قائد انقلاب اسلامي نے ايک گھنٹے کي اپني تقرير ميں مختلف سوالات کے جوابات ديئے اور کچھ شبہات دور کئے? آپ نے فرمايا کہ سياسي، علمي، اخلاقي اور معني ميدانوں ميں بلند امنگوں کے سلسلے ميں التزام طلبہ سے قوم کي اہم ترين توقع ہے?

قائد انقلاب اسلامي نے طلباء کي گفتگو کو اس صنف کے اندر پائے جانے والے خيالات اور طرز فکر کا بہترين مرقع قرار ديا? آپ نے فرمايا کہ بعض نکات بڑے اہم اور رہگشا تھے جو مختلف مسائل کے حل ميں مفيد واقع ہو سکتے ہيں? لہذا متعلقہ حکام کو ان پر توجہ دينے کي ضرورت ہے? طلبہ کے درميان سياسي وسيع القلبي کے اہم نکتے کا حوالہ ديتے ہوئے فرمايا کہ اقدار اور اصولوں کي مکمل پابندي کے ساتھ ساتھ غير ہم خيال افراد کے سلسلے ميں سياسي و غير سياسي مسائل ميں وسيع القلبي کا مظاہرہ کرنے ميں کوئي باہمي تضاد نہيں ہے?

طلبہ کي جانب سے يونيورسٹيوں ميں حکام کي آمد و رفت کي کمي کي شکايت پر قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ يہ اعتراض بالکل بجا ہے، عدليہ، مجريہ اور مقننہ کے سربراہوں، اعلي رتبہ حکام، ديگر حکام، قومي نشرياتي ادارے آئي آر آئي بي کے سربراہ اور فوج کے کمانڈروں کو چاہئے کہ يونيورسٹيوں ميں تواتر کے ساتھ آمد و رفت رکھيں، وہاں طلبہ کي گفتگو سنيں اور اپنے دلائل پيش کريں? ايسا کرنے کي صورت ميں بہت سے ابہامات دور ہوں گے اور نئي نسل کو اپنے سوالوں کے جواب ملتے رہيں گے?

ايک طالب علم نے بعض ماہرانہ نظريات اور قائد انقلاب اسلامي کے طرز فکر کے مابين فرق کے بارے ميں سوال کيا کہ کيا اس فکري تفاوت کو ولايت فقيہ يا نظام کي مخالفت قرار دئے جانے سے متعلق سوال پوچھا جس کے جواب ميں قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ کوئي بھي ماہرانہ رائے جو قائد انقلاب کے نقطہ نظر کے برخلاف ہے اسے ولايت فقيہ کي مخالفت کا نام نہيں ديا جا سکتا? آپ نے فرمايا کہ دقيق علمي کام اور تحقيق سے جو نتيجہ سامنے آئے وہ اس محقق کے لئے معتبر ہے اور اسے کبھي بھي نظام کي مخالفت کا نام نہيں ديا جا سکتا?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬