25 February 2020 - 00:47
خبر کا کوڈ: 442175
فونت
سی اے اے معاملہ پر فوجی وردی کا غلط استعمال، دلی پولیس اور فوج میں ٹھنی ھندوستان میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے فوجی وردیاں پہننے کے معاملے پر پولیس اور فوج میں ٹھن گئی ہے۔

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ھندوستان میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے فوجی وردیاں پہننے کے معاملے پر پولیس اور فوج میں ٹھن گئی ہے۔

ھندوستان فوج کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران داخلی سکیورٹی کیلئے دارالحکومت دہلی میں فوج تعینات نہیں کی گئی تھی، پولیس اہلکاروں اور نجی سکیورٹی اہلکاروں کے فوجی وردی پہننے کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ نئی دلی میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس اور سکیورٹی کمپنیوں کے اہلکاروں کی جانب سے فوجی وردیاں پہننے کے معاملے پر فوج تحقیقات کر رہی ہے اوران پولیس دستوں اور نجی سکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

بھارتی فوج کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پالیسی کے مطابق پولیس یا نیم فوجی دستے فوج کی وردی استعمال نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ ہفتہ کی رات کو دلی کے علاقے جعفر آباد میٹرو سٹیشن پر متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے والی پولیس اہلکاروں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے۔/

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬