آيت الله مکارم شيرازي:

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله ناصر مکارم شيرازي نے بائسويں ماہ مبارک رمضان کو تفسير قران کريم کي نشست ميں جو مختلف طبقے لوگوں اور حرم معصومہ قم عليھا السلام کے زائرين ومجاورين کي موجودگي ميں شبستان امام خميني (رہ) قم ميں منعقد ہوا سورہ مبارکہ احزاب کي اٹھارھيوں اور انيسويں ايت کي تفيسر کي ?
حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ کے استاد نے منافقين کو اسلام کا خطرناک ترين دشمن بتاتے ہوئے کہا : ان سے سب سے بڑا خطرہ يہ ہے کہ يہ مومنين کي بزم ميں رہتے ہيں اور معمولا ان کي شناخت بھي دشوار ہے ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ منافقين کا دو چہرہ ہے، ان کا ظاھر ايمان ہے لھذا ان کي شناخت ميں نفاق کي نشانيوں کو ڈھونڈھا لازمي ہوگا، انہوں نے مختلف سورے ميں موجود ايات کو ان نشانيوں کے سلسلے ميں بيان کيا ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے بيان کيا : سورہ احزاب ميں منافقوں کي چارنشانياں بيان کي گئي ہيں، ايک يہ ہے کہ يہ لوگ مقابلہ نہيں کرتے ، جب ميدان ميں اترتے ہيں تو بھي نہيں لڑتے، ان کي دوسري نشاني يہ ہے کہ فداکار نہيں ہوتے، اور ان کي ديگر نشانياں يہ ہيں کہ يہ بحراني حالات ميں حواس باختہ ہوتے ہيں، ان کے برخلاف مومنين ان حالات ميں چين وسکون سے رہتے ہيں ?
حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ کے استاد نے مزيد کہا : منافقين کي چوتھي نشاني يہ ہے کہ پيروز ہونے کي صورت ميں زيادہ حق کا مطالبہ کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ ھم نے لوگوں کو ميدان جنگ ميں جانے کي حوصلہ افزائي کرتے ہيں لھذا ھمارا حق بھي ھميں ديا جائے، اور اگر خدا نا خواستہ لشکر اسلام ہار جائے تو کہتے ہيں کہ ھم کہہ رہے تھے کہ جنگ نہ کرو ?
انہوں نے آيه : أُوْلَئِکَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ وَکَانَ ذَلِکَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا کي جانب اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : قران کريم نے منافقوں کيلئے سزائيں رکھي ہيں اور اگر نيک اعمال بھي انجام دئے ہوں تو بھي ان کے نفاق کي بناء پرختم ہوجائيں گے ?
قران کريم کے نامور مفسر نے اعمال کے ضائع ہونے جانے«فأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ» کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : بعض گناہيں اگ کے مانند ہيں، بجليوں کي کڑک کي طرح گھر کا گھرجلاکر راکھ کرديتي ہيں، جيسا کہ بعض ثواب بھي ايسے ہيں کہ گناہ ومعصيت خدا کے اثار کو مٹا ديتے ہيں ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے نيک اعمال کو ضائع کرنے والے برے اعمال کے نمونے پيش کرتے ہوئے کہا : حسد، غِيبت اور بے ايماني من جملہ ان برے اعمال ميں سے ہيں جو نيک اعمال کو ضائع کرديتے ہيں اور سبب بنتے ہيں کہ انسان کي اخرت خراب ہوجائے ?
انہوں نے دين اسلام ميں موجود غيبت کي حرمت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : کبھي لوگوں کي عزت ان کي جان سے زيادہ اھم ہے ؛ غيبت، ابروريزي ہے، خداوند تبارک و تعالي غيبت کي بناء پر تمام نيک اعمال کو ضائع کرديتا ہے ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ کچھ لوگوں کا اغاز اچھا ہوتا ہے مگر انجام بہتر نہيں ہوتا ياد دہاني کي: اصحاب پيغمبر(ص) ميں طلحہ و زبير وہ لوگ تھے جو رسول الله(ص) کي دلگرمي کا سبب تھے مگر ان کي عاقبت خراب ہوگئي، جنگ جمل ميں جانشين پيغمبر(ص) کي تلوار سے مارے گئے اور ھزاروں مسلمانوں کے مارے جانے کا سبب بنے ?
اس مرجع تقليد نے مزيد کہا : اس برخلاف بعض اعمال ايسے ہيں جو گناہوں کے مٹ جانے کا سبب ہيں جيسا کہ سوره آل عمران کي ايت 195 اور سوره هود کي ايت 114 اس بات پر دلالت کرتي ہے، اوراس سلسلے ميں روايتيں بھي موجود ہيں جو بيان گر ہيں کہ بيماري بھي انسان کي گناہوں کو مٹا ديتي ہے، ائمہ معصومين خصوصا امام حسين(ع) کي زيارت، گناہوں کے محو ہونے کا سبب ہے ?
حضرت آيت الله مکارم شيرازي نے اخر ميں ماه مبارک رمضان کي تئسويں شب کي جانب اشارہ کرتے ہوئے سبھي سے اس شب سے اچھي طرح استفادہ کرنے کي تاکيد کي اورکہا کہ يہ گناہوں اور معصيتوں سے استغفار کي بہترين رات ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے