سيد ساجد علي نقوي:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے معروف عالم دين حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے عيد الفطر کے موقع پرارسال کردہ خصوصي پيغام ميں تاکيد کي : گذشتہ برس سانحہ کوئٹہ، چلاس، کوہستان، خان پور، ڈي آئي خان، پاراچنار، کراچي، بابوسر روڈ اورملک کے ديگر حصوں ميں شھيد ہونے پيارے يقيناً شہادت کے اعلي مرتبے پرفائز ہوئے ليکن ان بے گناہوں کا پاک خون حکمرانوں کي گردوں پرقرض ہے-
ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے مرکزي سينئر نائب صدرحجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے عيد الفطر کے موقع پر پاکستان کےمسلمانوں کو دلي مبارک باد پيش کرتے ہوئے کہا : عيد کا دن مسلمانوں کے لئے اطاعت خدا کي توفيق نصيب ہونے پر اظہار تشکر اور اپنے محاسبہ دن ہے، اس روز اگر ہم اپنے گذشتہ سال کي انفرادي اور اجتماعي ذمہ داريوں کي ادائيگي کا جائزہ ليں اور اپني کوتاہيوں کا اعتراف کريں تو ہم خود احتسابي کا عمل جاري کرکے اپني ذاتي اور معاشرتي اصلاح کا فريضہ انجام دے سکتے ہيں اور پھر دنيا کو حسين جنت بناسکتے ہيں?
پاکستان کے معروف عالم دين نے مزيد کہا : عيد کے دن فقط رمضان المبارک کے اختتام اور روزہ کے روحاني فوائد حاصل کرکے مسرت کا اظہار کرنا ہي کافي نہيں بلکہ يہ دن ہميں اپنے ارد گرد موجود معاشرتي مسائل کي طرف بھي متوجہ کرتا ہے کہ جس طرح ہم رمضان المبارک ميں عبادت اور تزکيہ نفس کے ذريعے اپني ذاتي اصلاح کي کوشش کرتے ہيں اور پھر اس کوشش کي کاميابي کا اظہار عيد کي صورت ميں کرتے ہيں اسي طرح اجتماعي اصلاح کي کوششوں اور معاشرے کو تمام مسائل سے نجات دلانے کا آغاز کرنے کا عہد بھي عيد کے دن کيا جانا چاہئے?
حجت الاسلام ساجد نقوي نے يہ کہتے ہوئے کہ احترام آدميت اور انساني ہمدردي کا تقاضہ ہے کہ خوشي و مسرت کا جائز ذرائع سے استفادہ کيا جائے اور ايسا انداز اختيار نہ کيا جائے جس سے غريب، پسماندہ، غم زدہ اور پريشان حال بھائيوں کو تکليف، محرومي اوردکھ کا احساس ہوکہا: عيد کے موقع پر ہميں برائيوں اور منکرات سے بچنا بھي بہت ضروري ہے? ہماري ذمہ داري ہے کہ ہم ملک ميں عادلانہ نظام کے قيام‘ انساني حقوق کي بحالي اور احترام آدميت کے لئے جدوجہد کريں? بطور مسلم ہماري ذمہ داري ہے کہ اس عيد پر عہد کريں کہ ہم پاکستان کو ايسا مثالي عادلانہ نظام فراہم کريں گے جس طرح امير المومنين حضرت علي ابن ابي طالب نے اپنے سنہري اور تاريخي دور حکومت ميں ديا تھا، مالک اشترکے نام ہدايات کي روشني ميں ايسا نظام مہيا کيا کہ جس سے ہر شخص کو اس کا حق ملے اور احترام آدميت کا تصور قائم ہو-
ملي يکجہتي کونسل پاکستان کے مرکزي سينئر نائب صدرنے گذشتہ برس گذشتہ برس سانحہ کوئٹہ، چلاس، کوہستان، خان پور، ڈي آئي خان، پاراچنار، کراچي، بابوسر روڈ اورملک کے ديگر حصوں ميں اپنے عزيزوں کے کھودينے پر اظھار افسوس کرتے ہوئے ان کے خون کو حکمرانوں کي گردنوں پر قرض بتاتے ہوئے کہا : ہميں عيد کي خوشيوں ميں اپنے شہداء اور ان کے خانوادوں کو بھي ياد رکھنا چاہئے اور ان کے قاتلوں کي گرفتاري کا مطالبہ اور ان کے مشن کو جاري رکھنے کا عہد دہراتے رہنا چاہئے? اس کے ساتھ ملک کے ديگر محروم طبقات اور غرباء کو بھي اپني خوشيوں ميں شامل رکھنا چاہئے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے اپني توانائياں صرف کرنا چاہيں? ضرورت مندوں اور معاشرے کے پسے ہوئے لوگوں کو نظر انداز کرنے سے عيد قطعاً مکمل نہيں ہوسکتي?
شيعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ عيد کا دن ہميں اتحاد جيسے قرآني اور نبوي فريضے کي طرف بھي رہنمائي کرتا ہے جس دن تمام امت مسلمہ بلا تفريق مسلک و فرقہ عيد کي خوشياں مناتي ہے اور مسلمان ايک دوسرے کے گلے مل کر مبارک باد ديتے ہيں کہا : ہميں عيد الفطر کے دن اس عہد کي تجديد کرنا چاہئے کہ ہم پاکستان کے تمام مکاتب فکرکي تاريخي جدوجہد کے ثمرات و نتائج کو محفوظ رکھيں گے، ملک کو عادلانہ مملکت بنانے کے لئے اپني سياسي جدوجہد، اخوت، اتحاد، محبت اور وحدت کا سفر جاري رکھيں گے، عالم اسلام کے مسائل و مشکلات پر نظر رکھتے ہوئے اپنے حصہ کي جدوجہد کرتے رہيں گے، دنيا بھر ميں چلنے والي آزادي و حريت کي تحريکوں کي ہر ممکن اخلاقي مدد اور ان کے ساتھ تعاون کي کوشش کرتے رہيں گے اور گذشتہ سالوں سے وجود ميں آنے والي اسلامي بيداري ميں بھي اپنا مثبت اور جاندار کردار ادا کرتے رہيں گے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے