سيد اشھد حسين نقوي:(پہلي قسط)

توسل کے لغوي اور اصطلاحي معني
يہاں پر لازم ہے کہ ھر چيز کے بيان سے پہلے توسل کے لغوي اور اصطلاحي معني کا تحقيقي جائزہ ليا جائے؛ لغت ميں توسل ، تقرّب اور نزديک کے معني ميں ہے [1] اور اصطلاح ميں توسل ، انبياء الھي، ائمہ معصومين اور اولياء خدا کو تقرب پروردگار کے حصول کے لئے اس کي بارگاہ ميں وسيلہ بنانے کے معني ميں ہے، ان شخصيتوں کا احترام اور ان کي ا?برو خدا کي قربت کا وسيلہ قرار ديا جائے ?
توسل کي شرعي دليليں
ھم دوسرے مرحلہ ميں وہابيت نے جن دليلوں سے اپني ا?نکھيں بند کر رکھيں ہيں اسے ان کي توجہ کے لئے پيش کررہے ہيں ، توسل کا ا?يات قران کريم، روايات اور احاديث پيغمبر اکرم (صلىاللهعليه وآله وسلم) کے ائينہ ميں تحقيقي جائزہ لينے کي کوشش ہے ?
الف) آيات قرآن کريم
خدا کے نبي اور رسول کو ان کي حيات ميں اپنے اور خدا کے درميان واسطہ قرار دينا ا?يات الھي کے مطابق ہے، جسے پوري امت مسلمہ مانتي ہے ، علما اِنہيں ا?يات کي بنيادوں پر اور روايت کے ائينے ميں موت کے بعد انبياء الھي کي حيات ، اور انبياء و اولياء الھي سے ان کي موت کے بعد توسل کا اثبات کرتے ہيں ?
پہلي ا?يت
خداوند متعال نے قرآن کريم ميں فرمايا: « وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا »[2]، اور اپنے نفسوں پر ستم کرنے والے اگر تمھارے پاس ا?ئے ہوتے اور انہوں نے خدا سے استغفار کيا ہوتا اور خدا کے نبي نے بھي ان کے لئے استغفار کيا ہوتا تو يقينا خدا کو گناہوں کا بخشنے والا اور مھربان پاتے ?
ا?يت شريفہ سے استدلال
مذکورہ ا?يت گنہگاروں کو حکم دے رہي ہے کہ اپني گناہوں کي بخشش کے لئے رسول اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) کو شفيع اور واسطہ قرار ديں ?
ا?يت کے لحن ميں پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے توسل اور انہيں واسطہ قرار دينا فقط ان کي حيات ہي سے مخصوص نہيں ہے بلکہ ان کي حيات کے بعد کو بھي شامل ہے، کہ مسلمان رہتي دنيا تک ا?نحضرت (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے متوسل ہوسکتے ہيں اور انہيں واسطہ بنا سکتے ہيں ?
علمائے اردن ميں سے "محمود سعيد ممدوح" اپني تحرير ميں لکھتے ہيں: عربي گرامر کے مطابق جب بھي کوئي فعل، شرط کے بعد واقع ہو تو اس کے معني عام ہوتے ہيں اور يہ صورت عام معني پر دلالت کرنے کے لئے سب سے بہترين صورت ہے ، انہوں نے اِنہيں مطالب کے ذريعہ اور ا?يات قران کريم کو ميعار بناتے ہوئے پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے ان کي رحلت کے بعد توسل کو جائز جانا ہے اور پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے توسل کو انحضرت کي حيات سے مخصوص جاننے والوں کو گمراہ جانتے ہيں ?[3]
توسل کے جواز کے بارے ميں ا?يت شريفہ سے امام مالک کا استدلال
مالکي مذھب کے امام "مالک بن انس" پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) کا احترام ان کي وفات کے بعد بھي ان کي حيات کے مانند جانتے ہيں، اور ا?يات قران کريم کے ضمن ميں ا?نحضرت کے ا?داب زيارت کو عباسي خليفہ منصور دوانيقى کو تعليم ديتے ہوئے کہتے ہيں : مسجد النبي (صلىاللهعليه وآله وسلم) ميں اونچي ا?وازوں ميں باتيں نہ کرو، کيوں کہ خداوند متعال نے بعض کو حضرت سے گفتگو کا طريقہ سيکھاتے ہوئے کہا: « لاَتَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِىِّ » [4] نبي (صلىاللهعليه وآله وسلم) کي ا?واز پر اپني ا?واز نہ بلند کرو ، اور نبي (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے ا?ہستہ اور احترام سے گفتگو کرنے والوں کي مدح و تعريفيں کرتے ہوئے کہا: « إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَـئِکَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَ أَجْرٌ عَظِيمٌ »[5] اور بعض کي برائي اور سرزنش کرتے ہوئے فرمايا: « إنّ الَّذِينَ يُنَادُونَکَ مِن وَرَآءِ الْحُجُرَاتِ أَکْثَرُهُمْ لاَيَعْقِلُونَ »? [6]
جب منصور دوانيقى نے مالک سے پوچھا: قبلہ کے رخ کھڑے ہوکر دعا کروں ؟ يا قبر حضرت (صلىاللهعليه وآله وسلم) کے روبرو ہوکر دعائيں مانگوں ؟ تو مالک نے اس ا?يت کريمہ کے استناد ميں « وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا » جواب ديا: کيوں کر قبر پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے روگرداني کرکے قبلہ کي رخ کھڑے ہونگے ؟ پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) قيامت کے دن حضرت آدم (عليهالسلام) اور خد ا کے درميان واسطہ ہوں گے ، تمھارے اور خدا کے درميان بھي واسطہ قرار پائيں گے لھذا قبر پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) کا رخ کرکے کھڑے ہو اور انہيں واسطہ بنا کر خدا سے توبہ کرو اور دعائيں مانگو تاکہ خدا تمھيں بخش دے ، اور خدا بھي ا?نحضرت کي شفاعت اور وساطت قبول کرے گا ? [7]
دوسري ا?يت
خداوند متعال نے سورہ مائدہ ميں فرمايا: «يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَ جَـهِدُوا فِى سَبِيلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ»[8] اي ايمان لانے والوں ! خدا کا تقوي اختيار کرو اور اس سے نزديک ہونے کے لئے وسيلہ اختيار کرو اور خدا کي راہ ميں کوشش کرو شايد کامياب ہو ?
ا?يت شريفہ کے مطابق، مسلمان اپني حيات کے تمام لمحات حتي پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) کي رحلت کے بعد بھي خداوند متعال کي بارگاہ ميں تقرب حاصل کرنے کے لئے ا?نحضرت کو وسيلہ بنانے اور حضرت سے متمسک ہونے پر موظف ہے ?
پيغمبر اکرم (صلىاللهعليه وآله وسلم) نے خوارج سے حضرت على عليه السلام کي جنگ کے سلسلے ميں پيش گوئي کرتے ہوئے مولائے کائنات کو خدا کا نزديک ترين وسيلہ قرار ديا اور خوارج کے بارے ميں فرمايا: خوارج بدترين افراد اور دنيا کي بدترين مخلوق ہيں، انسانوں کي سب سے اچھي فرد جو خداوند متعال کا نزديک ترين وسيلہ ہے انہيں قتل کرے گا ? [9]
پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) کي لخت جگر حضرت فاطمہ زهرا (عليها السلام) تمام ملائک اور انسانوں کو خدا کي قربت حاصل کرنے کے لئے وسيلہ تلاش کرنے کي تاکيد کرتي ہيں اور وہ معتقد ہيں کہ خود ا?پ اور اهل بيت (عليهم السلام) خدا اور بندوں کے درميان وسيلہ ہيں ، حضرت فاطمه (عليهاالسلام) تمام انسانوں کو اس وسيلہ سے استفادہ کرنے کي تاکيد کرتے ہوئے فرماتي ہيں: ا?سمانوں اور زمين ميں بسنے والے خدا سے تقرب حاصل کرنے کے لئے وسيلہ کي تلاش ميں ہيں اور ھم خدا اور خدا کے بندوں کے درميان واسطہ اور ان کا وسيلہ ہيں ? [10]
پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) اور حضرت فاطمہ زهرا (عليها السلام) کے بيان ميں کوئي ايسي نشاني يا علامت نہيں کہ ان شخصيتوں سے توسل ان کے زمانہ حيات سے مخصوص ہے بلکہ مسلمانوں کو ان سے توسل کي تاکيد ايک دائمي ديني اور مذھبي درس کے عنوان سے بيان کيا گيا ہے?
تيسري ا?يت
حضرت يوسف عليہ السلام اور ان کے بھائيوں کي داستان ؛ جب حضرت يعقوب (عليه السلام ) کو مدتوں بعد حضرت يوسف (عليه السلام ) کے خلاف اپنے بيٹوں کي طرف سے انجام دي ہوئي سازش کي خبر ملي تو شديد ناراض ہوئے ، جب حضرت يوسف (عليه السلام ) کے بھائيوں نے اپنے والد گرامي سے اپنے ا?عمال سے پشيماني ، ندامت اور شرمندگي کا اظھار کيا اور کہا: « يَـأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَـطِئِينَ »[11] اي ميرے بابا ! خداوند متعال سے دعا کريں کہ وہ ھماري گناہوں کو بخش دے ھم سبھي نے خطا کار ہيں تو حضرت يعقوب (عليهالسلام ) نے بھي اپنے بيٹوں کي درخواست قبول کرتے ہوئے فرمايا: « سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّى إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ »[12] بہت جلد خدا سے تمھاري گناہوں کي معافي کا طلبگار ہوں گا کہ يقينا وہ بخشنے والا اور مہربان ہے ?
اس ا?يت کريمہ ميں بھي حضرت يوسف (عليه السلام ) کے بھائي اپني گناہوں کي بخشش کے لئے اپنے والد گرامي سے متوسل ہوئے ، انہوں نے اپنے اور خداوند متعال کے درميان حضرت يعقوب (عليه السلام ) کو واسطہ قرار ديا تو حضرت يعقوب (عليه السلام ) نے بھي بغير کسي اعتراض کے اپني بيٹوں کي درخواست مان لي ?
اگر انبياء اور اولياء الھي سے توسل غير خدا سے مدد اور شرک محسوب ہوتا تو حضرت يوسف (عليه السلام ) کے بھائي بھي اس درخواست کے ذريعہ شرک کے مرتکب ہوئے ہيں، ان کي درخواست کے مطابق قيد حيات ميں توسل اور موت کے بعد توسل ميں کوئي فرق نہيں ہے اگر شرک ہے تو دونوں ہي مصداق ہيں، اس کےعلاوہ قرا?ن کريم نے اس داستان کو بيان کرکے جو قرا?ن کريم کي احسن القصص، سب سے اچھي داستان ہے ، شرک بيان کيا ہے جو يقيقنا قران کتاب ھدايت ہونے کے منافي ہے ?
?????????????????????????????????????????????
حوالے
[1] . لسان العرب: ج 11، ص 724 ـ 725، ماده وسل.
[2] . سوره نساء: آيه 64.
[3] . رفع المنارة لتخريج أحاديث التوسل و الزيارة: ص 53.
[4] . سوره حجرات، آيه 2.
[5] . سوره حجرات، آيه 3.
[6] . سوره حجرات، آيه 4.
[7] . شفاء السقام في زيارة خير الأنام عليه أفضل الصلاة و السلام: ص 163.
[8] . سوره مائده، آيه 35.
[9] . شرح نهج البلاغة: ج 2، ص 267، ذيل خطبه 36.
[10] . السقيفة و فدک: ص 101، القسم الثاني، فدک.
[11] . سوره يوسف: آيه 97.
[12] . سوره يوسف، آيه 98.
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے