سيد اشھد حسين نقوي:(دوسري قسط)

ب) احاديث و روايات
گذشتہ انبياء کا رسول اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے ان کے دنيا ميں انے سے پہلے متوسل ہونا، خلفا، صحابہ اور تابعين کا پيغمبر اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے ا?نحضرت کي حيات اور ان کي وفات کے بعد متوسل ہونے سلسلے کي متعدد روايتيں علمائے جرح و تعديل کے مورد تائيد و تصديق ہے، انحضرت سے ان کي وفات کے بعد توسل کے سلسلے ميں کسي قسم کا شک وشبہ موجود نہيں ہے لھذا پيغمبر اسلام اور اولياء الھي سے ان کي وفات کے بعد توسل کے حرام ہونے کے سلسلے ميں وہابي نظريات کا باطل ہونا ھر طرح سے ثابت ہے ?
توسل کے وسيع ہونے اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ وہابي انبياء اور اولياء الھي سے ان کي حيات ميں توسل پر يقين رکھتے ہيں ، توسل کے سلسلے ميں مسلمانوں کا وہابيوں سے اختلاف انبياء و مرسلين اور اولياء سے ان کي رحلت کے بعد کا مسئلہ ہے ، ھم نے يہاں پر پيغمبر اکرم (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے مسلمانوں کا توسل جو وہابيوں کي تمام فکري بنيادوں پر سواليہ نشان لگا سکے کي جانب مختصر اشارہ کرنے پر اکتفا کيا ہے اور اس کے تفصيلي مطالعہ اور مراجعہ اور توسل کے جائز ہونے کے بارے ميں موجود ديگر تمام روايتوں کے تحقيقي جائزہ کو اپنے قارئيں پر چھوڑ ديا ہے ?
طبرانى لکھتے ہيں : خليفہ سوم کے پاس ايک نياز مند انسان ا?يا مگر خليفہ سوم عثمان بن عفان نے اس کي جانب کوئي توجہ نہيں کي ، اس ادمي نے خليفہ سوم کي بے توجہي کا گلا پيغمبراسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) کے ايک صحابي عثمان بن حنيف سے کيا ، توعثمان بن حنيف نے اس سے کہا: سب سے پہلے وضو کرو اور اس کے بعد مسجد ميں جاو اور دورکعت نماز ادا کرو اور نماز پڑھنے کے بعد اس دعا اور اس جملہ کي تکرار کرو «اللهمّ إنّي أسألک و أتوجّه إليک بنبيّنا محمد نبيّ الرحمة، يا محمد! إنّي أتوجّه بک إلى ربّي، فتقضي لي حاجتي» خدايا ميں تجھ سے اپني حاجتوں کا طلبگار ہوں اور ميں تجھ سے اپنے نبي محمد، نبيّ الرحمة کے وسيلہ سے متوسل ہورہا ہوں ، اي محمد ميں اپ کے وسيلہ سے اپنے پروردگار سے متوسل ہورہا ہوں پس ميري حاجتوں کو پورا کريں ? اور اس کے بعد اپني حاجتوں کو بيان کرو ، مشکلات ميں گھرے انسان نے عثمان بن حنيف کي کہي ہوئي باتوں پرعمل کيا اور اس کے بعد خليفہ سوم عثمان بن عفان کے گھر کي جانب چل پڑا ، ابھي خليفہ سوم عثمان بن عفان کے گھر تک نہيں پہو نچا تھا کہ خليفہ کے دربان سے روبرو ہوا ، دربان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے خليفہ سوم عثمان بن عفان کے پاس لے گيا اور خليفہ کے بغل ميں توشک پر بيٹھالا ، خليفہ سوم عثمان بن عفان نے اس سے اس کي مشکلات پوچھي اور اسے برطرف کرديا اور اس سے کہا: اج مجھے تمھاري مشکلات کا خيال ايا اور اج کے بعد جب بھي مشکل سے روبرو ہو تو ھم سے بيان کرنا ، مشکلات ميں گھرا انسان مشکلات کے برطرف ہونے کے بعد جب خليفہ سوم عثمان بن عفان کے گھر سے نکلا تو راستہ ميں صحابي رسول عثمان بن حنيف سے اس کي ملاقات ہوئي اور اس نے ان کا شکريہ ادا کيا اور کہا: اگر اپ نے خليفہ سوم عثمان بن عفان سے ھماري سفارش نہ کي ہوتي تو خليفہ ميري مشکلات کو ھرگز نہ سنتے تو عثمان بن حنيف نے کہا: خدا کي قسم ! ميں نے خليفہ سے تيري مشکلات کے سلسلے ميں کچھ بھي نہيں کہا ، بلکہ تيري مشکلات پيغمبراسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے توسل کے بنا پر حل ہوئي ہے ، انہوں نے مزيد کہا: ميں خود گواہ ہوں کہ رسول اسلام(صلىاللهعليه وآله وسلم) کي خدمت ميں ايک نابينا انسان ايا اور اس نے حضرت سے اپني نابينائي کا گلا کيا تو رسول اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) نے يہي جملے اسے ياد کرائے اور اسے بھي انہيں جملوں کے ذريعہ بينائي واپس مل گئي ? [1]
حضرت آدم(عليهالسلام ) کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [2]، پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) کا گذشتہ انبياء سے توسل [3] ، حضرت امام علي (عليهالسلام ) کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [4] ، خيلفہ اول ابوبکر کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [5]، صحابہ کرام کا مسيلمہ کذاب سے جنگ ميں پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [ 6]، باديہ نشين عرب کا صحابہ کے حضور ميں پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[7]، مشکلات ميں گھرے انسان کا عثمان بن حنيف کي ھدايت پر پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [8]، سن 53 هجري ميں اھل مدينہ کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[9]، خليفہ دوم عمربن خطاب کا اپنے زمانہ ميں دانيال نبي سے توسل[10]، سن 63 هجري ميں امام سجاد (عليهالسلام ) کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[11]، اهل بصره کا سن 81 هجري ميں پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[12]، هشام بن عبدالملک کے زمانہ ميں مسلمان اسيروں کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[13]، سن 135 هجري ميں وفات پانے والے ابوخيره کا پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) سے توسل[14]، سن 137 هجري ميں مسلمان اسيروں کا پيغمبراکرم اسلام(صلىالله عليه وآله) سے توسل [15]، سن 170 هجرى ميں تين لڑاکو بھائيوں کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[16]، امام کاظم عليه السلام سے ابوعلي خلال کا توسل[17]، ابوحنيفه سے شافعي کا توسل [18] ، امام رضاعليهالسلام سے محمد بن علي بن سهل ما سرجسي کا توسل [19]، امام رضاعليه السلام سے حاکم نيشابوري شافعي کا توسل [20]، امام رضاعليه السلام زيد فارسي کا توسل[21]، امام رضاعليه السلام سے ابونضر نيشابوري کا توسل[22]، امام رضاعليه السلام سے امير خراسان کا توسل[23]، پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) سے ابوالقاسم واسطي کا توسل[24]، عبدالرحمن بن ابي ربيعہ سے توسل[25]، ابوايوب انصاري سے توسل[26]، مسروق بن اجدع سے توسل[27]، محمد بن اسماعيل بخاري سے توسل[28] اور ابوالوليد نيشابوري سے توسل[29] انبياء ومرسلين اور اولياء سے توسل کے سلسلے ميں اھل سنت کتابوں ميں موجود يہ کچھ محدود روايتيں تھيں جنہيں نمونہ کے طور پيش کيا گيا جو نہ فقط توسل کے جواز کا اثبات کرتي ہيں بلکہ اسلامي معاشرے اور مسلمانوں ميں ايک قسم کے ماحول اور تھذيب کي بيان گر ہيں ?
اور اب وہابيوں سے سوال کيا جائے کہ کيا تمام اصحاب اور وہ لوگ جنہوں نے مسيلمہ کذاب سے جنگ ميں وامحمداه کے نارے کے ذريعہ جنگ کي کيا وہ سبھي کے سبھي کافر تھے ؟ کيا بزرگ صحابي عثمان بن حنيف نے اس نياز مند اور مشکلات ميں گھرے مسلمان کو شرک کي دعوت دي ؟ کيا وہ تمام لوگ جو محمد بن اسماعيل بخاري کي قبر کے اطراف ميں يکجا ہوکر ان سے متوسل ہوتے رہے وہ سب کے سب کافر اور مشرک ہيں ؟
توسل کي گفتگو ميں اھم ترين نکتہ يہ ہے کہ کبھي انسان براہ راست خداوند متعال سے متوسل ہوتا اور اس کے فضل اور اس کي رحمتوں کو وسيلہ قرار ديتا ہے ، اور بسا اوقات انبياء و اولياء سے متوسل ہوتا ہے اور انہيں واسطہ بناتا ہے ، اور بعض اوقات اپنے نيک اعمال کو وسيلہ قرار ديتا ہے ?
غارميں پھنسے والے تين انسانوں کا خداوند متعال سے اپنے خالص ترين اعمال کے ذريعہ متوسل ہونا اور پتھر کا ہٹ جانا اور غار کے دھانہ کا کھل جانا، اھل سنت کي متعدد کتابوں ميں موجود ہے ? [30]
پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) سے بعض منقولہ روايتوں کے مطابق، بسا اوقات مريض اور کمزور انسان اور حيوانات رحمت خدا کا وسيلہ قرار پاتے ہيں ، روايت «هل تنصرون و ترزقون إلاّ بضعفائکم»[31] ، حضرت سليمان اور چنيوٹي کا ماجرا [32] اسي طرح کے موارد کا بيانگر ہے ?
اگر با انصاف ہوں
ايات و روايات ، اصحاب ، تابعين ، علما اور پوري تاريخ اسلام خصوصا ابتدائي صديوں کے مسلمانوں کي سيرت کا وہابي مذھب کي بنيادوں کے ساتھ مقايسہ سے وہابي افکار کے بطلان کو اساني کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے، اگر توسل کے سلسلے ميں وہابي نظريات کو مان ليا جائے تو صدر اسلام سے اج تک کے تمام مسلمانوں کو مشرک به شرک اکبر جاننا لازمي ہوگا اور فقط قرن الشيطان نجد کے وہابي موحد اور خداشناس ہوں گے ?
اس بھي بالاتر يہ کہ وہابي نظريات تحت تمام اسلامي تعليمات ايات قران کريم ، احاديث نبوي اور اصحاب پيغمبراکرم (صلىاللهعليه وآله) عوام کو شرک اکبر کي جانب دعوت ديتے ہيں اور اس بيچ فقط نئے پيغمبر اور ابن تيميّه و محمد بن عبدالوهّاب جيسے نئے رسول توحيد کے منادي ہوں گے اور جنت بھي مکمل طور سے ان کے اختيار اور کنٹرول ميں ہوگي ، برطانيہ کے بھيجے ہوئے يہ نبي اور ان ماننے والے أشدّ کفراً و نفاقاً اعراب سچے دين کے پيروکار ہوں گے ? !
اخري سخن
ھم توسل کي اپني اخري گفتگو ميں سني کتابوں ميں موجود اھل بيت (عليهمالسلام) سے مرسل اعظم محمد ابن عبد اللہ (صلىاللهعليه وآله) کي وصيت کي جانب اشارہ کررہے ہيں ?
ابوھريرہ نے کہا: پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) نے حضرت آدم(عليهالسلام ) اور ان کے توسل کے بارے ميں يوں کہا کہ خداوند متعال نے حضرت آدم(عليهالسلام ) سے خطاب کيا: اي آدم(عليهالسلام ) يہ اھل بيت پيغمبر (عليهمالسلام) ميرے منتخب بندے ہيں??? اور جب بھي کوئي ضرورت ہو تو انہيں وسيلہ بناو ، پيامبر اکرم(صلىاللهعليهوآله) نے مزيد کہا: ھم کشتي نجات ہيں اور جو کوئي بھي اس کشتي پر سوار ہوگا نجات پائے گا ، اور جو کوئي بھي اس کشتي سے روگرداني کرے گا ہلاک ہوجائے گا ، اور جو کوئي بھي اپني حاجتوں ميں ھم اهل بيت پيامبر(عليهمالسلام) کو واسطہ قرار دے گا اس کي حاجتيں پوري ہوں گي ?[33]
رسول اسلام نے (صلىاللهعليه وآله) پوري امت مسلمہ کو اهل بيت(عليهمالسلام) کي پيروي اور انہيں واسطہ قرار دينے کي تاکيد کي اور ا?نحضرت نے اس واسطہ کو اهل بيت (عليهمالسلام) کي حيات اور ان کے زمانہ کے مسلمانوں سے مخصوص نہيں جانا بلکہ تمام زمانہ کے مسلمانوں کو انہيں وسيلہ قرار دينے کي تاکيد کي ہے ?
.................
حوالے
[1] . المعجم الکبير: ج 9، ص 30 ـ 31، شرح حال و روايات عثمان بن حنيف، ح 8311 و مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ج 2، ص 279، کتاب الصلاة، باب صلاة سيدنا رسولاللّه صلىاللهعليهوآله.
[2] . المستدرک على الصحيحين: ج 2، ص 672، کتاب تواريخ المتقدمين من الأنبياء و المرسلين، ح 4228/238 والدر المنثور في التفسير بالمأثور: ج 1، ص 60 ذيلآيه 37 سوره بقره.
[3] . المعجم الکبير: ج 24، ص 351 ـ 352، شرح حال و روايات فاطمه بنت اسد، ح 871 و المعجم الأوسط: ج 1، ص 68 ـ 69، ح 189.
[4] . نهجالبلاغة: خطبه 235.
[5] . الدُرَر السَنيّة في الردّ على الوهابيّة: ص 34.
[6] . تاريخ الأمم و الملوک: ج 2، ص 281، حوادث 11 هجرى قمرى، ذکر بقية خبر مسيلمة الکذاب و قومه من أهل اليمامة؛ البداية و النهاية: ج 6، ص 329، حوادث 11 هجرى قمرى، مقتل مسيلمة الکذاب و الکامل في التاريخ: ج 2، ص 37، حوادث 11 هجرى قمرى، ذکر مسيلمة و أهل اليمامة.
[7] . الدر المنثور في التفسير بالمأثور: ج 1، ص 238، ذيل آيه 203 سوره بقرهو تفسير القرآن العظيم: ج 1، ص 532، ذيل آيه 64 سوره نساء.
[8] . المعجم الکبير: ج 9، ص 30 ـ 31، شرح حال و روايات عثمان بن حنيف، ح 8311 و مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ج 2، ص 279، کتاب الصلاة، باب صلاة سيدنا رسولاللّه صلىاللهعليهوآله.
[9] . مروج الذهب و معادن الجوهر: ج 3، ص 32، موت زياد.
[10] . معجم البلدان: ج 3، ص 281، سوس شوش.
[11] . مروج الذهب و معادن الجوهر: ج 3، ص 85، وقعة الحرة.
[12] . تاريخ الأمم و الملوک: ج 3، ص 648، حوادث 83 هجرى قمرى، ذکر الأحداث التي کانت فيها و الکامل في التاريخ: ج 3، ص 146، حوادث 81 هجرى قمرى، ذکر خلاف عبدالرحمن بن محمد بن الاشعث على الحجاج.
[13] . الفتوح: ج 8، ص 277، ذکر الرجل الرستاقي.
[14] . تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير و الأعلام: ج 8، ص 525، شرح حال محب بن حذلم، وفيات 135 هجرى قمرى.
[15] . الکامل في التاريخ: ج 3، ص 535، حوادث 137 هجرى قمرى، ذکر خروج سنباذ بخراسان.
[16] . المنتظم في تواريخ الملوک و الأمم: ج 5، ص 371، حوادث 170 هجرى قمرى.
[17] . تاريخ بغداد أو مدينة السلام: ج 1، ص 120، باب ما ذکر في مقابر بغداد.
[18] . همان، ص 123، ما ذکر في مقابر بغداد، مقبرة باب الدير.
[19] . فرائد السمطين في فضائل المرتضى و البتول و السبطين و الائمة من ذريتهم عليهمالسلام: ج 2، ص 165 ـ 166، سمط دوم، باب 42، حديث 483 و 484.
[20] . همان، ص 166، حديث 484.
[21] . همان، ص 164 ـ 165، حديث 481.
[22] . همان، ص 163، حديث 478.
[23] . همان، ص 165، حديث 482.
[24] . تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير و الأعلام: ج 26، ص 259، حوادث 364 هجرى قمرى و تاريخ دمشق الکبير: ج 71، ص 103، شرح حال ابوالقاسم واسطى، ش 9100.
[25] . الإصابة في تمييز الصحابة: ج 2، ص 398، شرح حال عبدالرحمن بن ابىربيعه، ش 5119.
[26] . الطبقات الکبرى: ج 3، ص 484 ـ 485، شرح حال ابوايوب انصارى؛ المستدرک على الصحيحين: ج 3، ص 518، کتاب معرفة الصحابة، ذکر مناقب أبي أيوب الأنصاري، ح 5929/1527؛ سير أعلام النبلاء: ج 2، ص 402 ـ 412، شرح حال ابوايوب انصارى، ش 83 و الوافي بالوفيات: ج 13، ص 251، شرح حال ابوايوب انصارى، ش 307.
[27] . الطبقات الکبرى: ج 6، ص 84، شرح حال مسروق بن اجدع.
[28] . سير أعلام النبلاء: ج 12، ص 469، شرح حال بخارى، ش 171 و تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير و الأعلام: ج 19، ص 273 ـ 274، حوادث و وفيات 251 ـ 260 هجرى قمرى، شرح حال بخارى، ش 401 و سبکى شافعى، طبقات الشافعية الکبرى: ج 2، ص 234، شرح حال بخارى، ش 54.
[29]. طبقات الشافعية الکبرى: ج 3، ص 228، شرح حال حسان بن محمد، ش 164.
[30] . المسند: ج 2، ص 116، مسند عبداللّه بن عمر؛ سنن ابىداود: ج 3، ص 256، کتاب البيوع، باب في الرجل يتجر في مال الرجل بغير إذنه، ح 3387 و المعجم الکبير: ج 12، ص 235، شرح حال و روايات عبداللّه بن عمر، ح 13188.
[31] . المسند: ج 1، ص 173، مسند سعد بن مالک معروف به سعد بن ابىوقاص.
[32] . المجموع: ج 5، ص 66، کتاب الصلاة، باب صلاة الإستسقاء.
[33] . فرائد السمطين في فضائل المرتضى و البتول و السبطين و الائمة من ذريتهم عليهمالسلام: ج 1، ص 49، باب اول، حديث 1.
توسل کے وسيع ہونے اور اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ وہابي انبياء اور اولياء الھي سے ان کي حيات ميں توسل پر يقين رکھتے ہيں ، توسل کے سلسلے ميں مسلمانوں کا وہابيوں سے اختلاف انبياء و مرسلين اور اولياء سے ان کي رحلت کے بعد کا مسئلہ ہے ، ھم نے يہاں پر پيغمبر اکرم (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے مسلمانوں کا توسل جو وہابيوں کي تمام فکري بنيادوں پر سواليہ نشان لگا سکے کي جانب مختصر اشارہ کرنے پر اکتفا کيا ہے اور اس کے تفصيلي مطالعہ اور مراجعہ اور توسل کے جائز ہونے کے بارے ميں موجود ديگر تمام روايتوں کے تحقيقي جائزہ کو اپنے قارئيں پر چھوڑ ديا ہے ?
طبرانى لکھتے ہيں : خليفہ سوم کے پاس ايک نياز مند انسان ا?يا مگر خليفہ سوم عثمان بن عفان نے اس کي جانب کوئي توجہ نہيں کي ، اس ادمي نے خليفہ سوم کي بے توجہي کا گلا پيغمبراسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) کے ايک صحابي عثمان بن حنيف سے کيا ، توعثمان بن حنيف نے اس سے کہا: سب سے پہلے وضو کرو اور اس کے بعد مسجد ميں جاو اور دورکعت نماز ادا کرو اور نماز پڑھنے کے بعد اس دعا اور اس جملہ کي تکرار کرو «اللهمّ إنّي أسألک و أتوجّه إليک بنبيّنا محمد نبيّ الرحمة، يا محمد! إنّي أتوجّه بک إلى ربّي، فتقضي لي حاجتي» خدايا ميں تجھ سے اپني حاجتوں کا طلبگار ہوں اور ميں تجھ سے اپنے نبي محمد، نبيّ الرحمة کے وسيلہ سے متوسل ہورہا ہوں ، اي محمد ميں اپ کے وسيلہ سے اپنے پروردگار سے متوسل ہورہا ہوں پس ميري حاجتوں کو پورا کريں ? اور اس کے بعد اپني حاجتوں کو بيان کرو ، مشکلات ميں گھرے انسان نے عثمان بن حنيف کي کہي ہوئي باتوں پرعمل کيا اور اس کے بعد خليفہ سوم عثمان بن عفان کے گھر کي جانب چل پڑا ، ابھي خليفہ سوم عثمان بن عفان کے گھر تک نہيں پہو نچا تھا کہ خليفہ کے دربان سے روبرو ہوا ، دربان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے خليفہ سوم عثمان بن عفان کے پاس لے گيا اور خليفہ کے بغل ميں توشک پر بيٹھالا ، خليفہ سوم عثمان بن عفان نے اس سے اس کي مشکلات پوچھي اور اسے برطرف کرديا اور اس سے کہا: اج مجھے تمھاري مشکلات کا خيال ايا اور اج کے بعد جب بھي مشکل سے روبرو ہو تو ھم سے بيان کرنا ، مشکلات ميں گھرا انسان مشکلات کے برطرف ہونے کے بعد جب خليفہ سوم عثمان بن عفان کے گھر سے نکلا تو راستہ ميں صحابي رسول عثمان بن حنيف سے اس کي ملاقات ہوئي اور اس نے ان کا شکريہ ادا کيا اور کہا: اگر اپ نے خليفہ سوم عثمان بن عفان سے ھماري سفارش نہ کي ہوتي تو خليفہ ميري مشکلات کو ھرگز نہ سنتے تو عثمان بن حنيف نے کہا: خدا کي قسم ! ميں نے خليفہ سے تيري مشکلات کے سلسلے ميں کچھ بھي نہيں کہا ، بلکہ تيري مشکلات پيغمبراسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) سے توسل کے بنا پر حل ہوئي ہے ، انہوں نے مزيد کہا: ميں خود گواہ ہوں کہ رسول اسلام(صلىاللهعليه وآله وسلم) کي خدمت ميں ايک نابينا انسان ايا اور اس نے حضرت سے اپني نابينائي کا گلا کيا تو رسول اسلام (صلىاللهعليه وآله وسلم) نے يہي جملے اسے ياد کرائے اور اسے بھي انہيں جملوں کے ذريعہ بينائي واپس مل گئي ? [1]
حضرت آدم(عليهالسلام ) کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [2]، پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) کا گذشتہ انبياء سے توسل [3] ، حضرت امام علي (عليهالسلام ) کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [4] ، خيلفہ اول ابوبکر کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [5]، صحابہ کرام کا مسيلمہ کذاب سے جنگ ميں پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [ 6]، باديہ نشين عرب کا صحابہ کے حضور ميں پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[7]، مشکلات ميں گھرے انسان کا عثمان بن حنيف کي ھدايت پر پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل [8]، سن 53 هجري ميں اھل مدينہ کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[9]، خليفہ دوم عمربن خطاب کا اپنے زمانہ ميں دانيال نبي سے توسل[10]، سن 63 هجري ميں امام سجاد (عليهالسلام ) کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[11]، اهل بصره کا سن 81 هجري ميں پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[12]، هشام بن عبدالملک کے زمانہ ميں مسلمان اسيروں کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[13]، سن 135 هجري ميں وفات پانے والے ابوخيره کا پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) سے توسل[14]، سن 137 هجري ميں مسلمان اسيروں کا پيغمبراکرم اسلام(صلىالله عليه وآله) سے توسل [15]، سن 170 هجرى ميں تين لڑاکو بھائيوں کا پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) سے توسل[16]، امام کاظم عليه السلام سے ابوعلي خلال کا توسل[17]، ابوحنيفه سے شافعي کا توسل [18] ، امام رضاعليهالسلام سے محمد بن علي بن سهل ما سرجسي کا توسل [19]، امام رضاعليه السلام سے حاکم نيشابوري شافعي کا توسل [20]، امام رضاعليه السلام زيد فارسي کا توسل[21]، امام رضاعليه السلام سے ابونضر نيشابوري کا توسل[22]، امام رضاعليه السلام سے امير خراسان کا توسل[23]، پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) سے ابوالقاسم واسطي کا توسل[24]، عبدالرحمن بن ابي ربيعہ سے توسل[25]، ابوايوب انصاري سے توسل[26]، مسروق بن اجدع سے توسل[27]، محمد بن اسماعيل بخاري سے توسل[28] اور ابوالوليد نيشابوري سے توسل[29] انبياء ومرسلين اور اولياء سے توسل کے سلسلے ميں اھل سنت کتابوں ميں موجود يہ کچھ محدود روايتيں تھيں جنہيں نمونہ کے طور پيش کيا گيا جو نہ فقط توسل کے جواز کا اثبات کرتي ہيں بلکہ اسلامي معاشرے اور مسلمانوں ميں ايک قسم کے ماحول اور تھذيب کي بيان گر ہيں ?
اور اب وہابيوں سے سوال کيا جائے کہ کيا تمام اصحاب اور وہ لوگ جنہوں نے مسيلمہ کذاب سے جنگ ميں وامحمداه کے نارے کے ذريعہ جنگ کي کيا وہ سبھي کے سبھي کافر تھے ؟ کيا بزرگ صحابي عثمان بن حنيف نے اس نياز مند اور مشکلات ميں گھرے مسلمان کو شرک کي دعوت دي ؟ کيا وہ تمام لوگ جو محمد بن اسماعيل بخاري کي قبر کے اطراف ميں يکجا ہوکر ان سے متوسل ہوتے رہے وہ سب کے سب کافر اور مشرک ہيں ؟
توسل کي گفتگو ميں اھم ترين نکتہ يہ ہے کہ کبھي انسان براہ راست خداوند متعال سے متوسل ہوتا اور اس کے فضل اور اس کي رحمتوں کو وسيلہ قرار ديتا ہے ، اور بسا اوقات انبياء و اولياء سے متوسل ہوتا ہے اور انہيں واسطہ بناتا ہے ، اور بعض اوقات اپنے نيک اعمال کو وسيلہ قرار ديتا ہے ?
غارميں پھنسے والے تين انسانوں کا خداوند متعال سے اپنے خالص ترين اعمال کے ذريعہ متوسل ہونا اور پتھر کا ہٹ جانا اور غار کے دھانہ کا کھل جانا، اھل سنت کي متعدد کتابوں ميں موجود ہے ? [30]
پيغمبراکرم اسلام (صلىاللهعليه وآله) سے بعض منقولہ روايتوں کے مطابق، بسا اوقات مريض اور کمزور انسان اور حيوانات رحمت خدا کا وسيلہ قرار پاتے ہيں ، روايت «هل تنصرون و ترزقون إلاّ بضعفائکم»[31] ، حضرت سليمان اور چنيوٹي کا ماجرا [32] اسي طرح کے موارد کا بيانگر ہے ?
اگر با انصاف ہوں
ايات و روايات ، اصحاب ، تابعين ، علما اور پوري تاريخ اسلام خصوصا ابتدائي صديوں کے مسلمانوں کي سيرت کا وہابي مذھب کي بنيادوں کے ساتھ مقايسہ سے وہابي افکار کے بطلان کو اساني کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے، اگر توسل کے سلسلے ميں وہابي نظريات کو مان ليا جائے تو صدر اسلام سے اج تک کے تمام مسلمانوں کو مشرک به شرک اکبر جاننا لازمي ہوگا اور فقط قرن الشيطان نجد کے وہابي موحد اور خداشناس ہوں گے ?
اس بھي بالاتر يہ کہ وہابي نظريات تحت تمام اسلامي تعليمات ايات قران کريم ، احاديث نبوي اور اصحاب پيغمبراکرم (صلىاللهعليه وآله) عوام کو شرک اکبر کي جانب دعوت ديتے ہيں اور اس بيچ فقط نئے پيغمبر اور ابن تيميّه و محمد بن عبدالوهّاب جيسے نئے رسول توحيد کے منادي ہوں گے اور جنت بھي مکمل طور سے ان کے اختيار اور کنٹرول ميں ہوگي ، برطانيہ کے بھيجے ہوئے يہ نبي اور ان ماننے والے أشدّ کفراً و نفاقاً اعراب سچے دين کے پيروکار ہوں گے ? !
اخري سخن
ھم توسل کي اپني اخري گفتگو ميں سني کتابوں ميں موجود اھل بيت (عليهمالسلام) سے مرسل اعظم محمد ابن عبد اللہ (صلىاللهعليه وآله) کي وصيت کي جانب اشارہ کررہے ہيں ?
ابوھريرہ نے کہا: پيغمبراکرم اسلام(صلىاللهعليه وآله) نے حضرت آدم(عليهالسلام ) اور ان کے توسل کے بارے ميں يوں کہا کہ خداوند متعال نے حضرت آدم(عليهالسلام ) سے خطاب کيا: اي آدم(عليهالسلام ) يہ اھل بيت پيغمبر (عليهمالسلام) ميرے منتخب بندے ہيں??? اور جب بھي کوئي ضرورت ہو تو انہيں وسيلہ بناو ، پيامبر اکرم(صلىاللهعليهوآله) نے مزيد کہا: ھم کشتي نجات ہيں اور جو کوئي بھي اس کشتي پر سوار ہوگا نجات پائے گا ، اور جو کوئي بھي اس کشتي سے روگرداني کرے گا ہلاک ہوجائے گا ، اور جو کوئي بھي اپني حاجتوں ميں ھم اهل بيت پيامبر(عليهمالسلام) کو واسطہ قرار دے گا اس کي حاجتيں پوري ہوں گي ?[33]
رسول اسلام نے (صلىاللهعليه وآله) پوري امت مسلمہ کو اهل بيت(عليهمالسلام) کي پيروي اور انہيں واسطہ قرار دينے کي تاکيد کي اور ا?نحضرت نے اس واسطہ کو اهل بيت (عليهمالسلام) کي حيات اور ان کے زمانہ کے مسلمانوں سے مخصوص نہيں جانا بلکہ تمام زمانہ کے مسلمانوں کو انہيں وسيلہ قرار دينے کي تاکيد کي ہے ?
.................
حوالے
[1] . المعجم الکبير: ج 9، ص 30 ـ 31، شرح حال و روايات عثمان بن حنيف، ح 8311 و مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ج 2، ص 279، کتاب الصلاة، باب صلاة سيدنا رسولاللّه صلىاللهعليهوآله.
[2] . المستدرک على الصحيحين: ج 2، ص 672، کتاب تواريخ المتقدمين من الأنبياء و المرسلين، ح 4228/238 والدر المنثور في التفسير بالمأثور: ج 1، ص 60 ذيلآيه 37 سوره بقره.
[3] . المعجم الکبير: ج 24، ص 351 ـ 352، شرح حال و روايات فاطمه بنت اسد، ح 871 و المعجم الأوسط: ج 1، ص 68 ـ 69، ح 189.
[4] . نهجالبلاغة: خطبه 235.
[5] . الدُرَر السَنيّة في الردّ على الوهابيّة: ص 34.
[6] . تاريخ الأمم و الملوک: ج 2، ص 281، حوادث 11 هجرى قمرى، ذکر بقية خبر مسيلمة الکذاب و قومه من أهل اليمامة؛ البداية و النهاية: ج 6، ص 329، حوادث 11 هجرى قمرى، مقتل مسيلمة الکذاب و الکامل في التاريخ: ج 2، ص 37، حوادث 11 هجرى قمرى، ذکر مسيلمة و أهل اليمامة.
[7] . الدر المنثور في التفسير بالمأثور: ج 1، ص 238، ذيل آيه 203 سوره بقرهو تفسير القرآن العظيم: ج 1، ص 532، ذيل آيه 64 سوره نساء.
[8] . المعجم الکبير: ج 9، ص 30 ـ 31، شرح حال و روايات عثمان بن حنيف، ح 8311 و مجمع الزوائد و منبع الفوائد: ج 2، ص 279، کتاب الصلاة، باب صلاة سيدنا رسولاللّه صلىاللهعليهوآله.
[9] . مروج الذهب و معادن الجوهر: ج 3، ص 32، موت زياد.
[10] . معجم البلدان: ج 3، ص 281، سوس شوش.
[11] . مروج الذهب و معادن الجوهر: ج 3، ص 85، وقعة الحرة.
[12] . تاريخ الأمم و الملوک: ج 3، ص 648، حوادث 83 هجرى قمرى، ذکر الأحداث التي کانت فيها و الکامل في التاريخ: ج 3، ص 146، حوادث 81 هجرى قمرى، ذکر خلاف عبدالرحمن بن محمد بن الاشعث على الحجاج.
[13] . الفتوح: ج 8، ص 277، ذکر الرجل الرستاقي.
[14] . تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير و الأعلام: ج 8، ص 525، شرح حال محب بن حذلم، وفيات 135 هجرى قمرى.
[15] . الکامل في التاريخ: ج 3، ص 535، حوادث 137 هجرى قمرى، ذکر خروج سنباذ بخراسان.
[16] . المنتظم في تواريخ الملوک و الأمم: ج 5، ص 371، حوادث 170 هجرى قمرى.
[17] . تاريخ بغداد أو مدينة السلام: ج 1، ص 120، باب ما ذکر في مقابر بغداد.
[18] . همان، ص 123، ما ذکر في مقابر بغداد، مقبرة باب الدير.
[19] . فرائد السمطين في فضائل المرتضى و البتول و السبطين و الائمة من ذريتهم عليهمالسلام: ج 2، ص 165 ـ 166، سمط دوم، باب 42، حديث 483 و 484.
[20] . همان، ص 166، حديث 484.
[21] . همان، ص 164 ـ 165، حديث 481.
[22] . همان، ص 163، حديث 478.
[23] . همان، ص 165، حديث 482.
[24] . تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير و الأعلام: ج 26، ص 259، حوادث 364 هجرى قمرى و تاريخ دمشق الکبير: ج 71، ص 103، شرح حال ابوالقاسم واسطى، ش 9100.
[25] . الإصابة في تمييز الصحابة: ج 2، ص 398، شرح حال عبدالرحمن بن ابىربيعه، ش 5119.
[26] . الطبقات الکبرى: ج 3، ص 484 ـ 485، شرح حال ابوايوب انصارى؛ المستدرک على الصحيحين: ج 3، ص 518، کتاب معرفة الصحابة، ذکر مناقب أبي أيوب الأنصاري، ح 5929/1527؛ سير أعلام النبلاء: ج 2، ص 402 ـ 412، شرح حال ابوايوب انصارى، ش 83 و الوافي بالوفيات: ج 13، ص 251، شرح حال ابوايوب انصارى، ش 307.
[27] . الطبقات الکبرى: ج 6، ص 84، شرح حال مسروق بن اجدع.
[28] . سير أعلام النبلاء: ج 12، ص 469، شرح حال بخارى، ش 171 و تاريخ الإسلام و وفيات المشاهير و الأعلام: ج 19، ص 273 ـ 274، حوادث و وفيات 251 ـ 260 هجرى قمرى، شرح حال بخارى، ش 401 و سبکى شافعى، طبقات الشافعية الکبرى: ج 2، ص 234، شرح حال بخارى، ش 54.
[29]. طبقات الشافعية الکبرى: ج 3، ص 228، شرح حال حسان بن محمد، ش 164.
[30] . المسند: ج 2، ص 116، مسند عبداللّه بن عمر؛ سنن ابىداود: ج 3، ص 256، کتاب البيوع، باب في الرجل يتجر في مال الرجل بغير إذنه، ح 3387 و المعجم الکبير: ج 12، ص 235، شرح حال و روايات عبداللّه بن عمر، ح 13188.
[31] . المسند: ج 1، ص 173، مسند سعد بن مالک معروف به سعد بن ابىوقاص.
[32] . المجموع: ج 5، ص 66، کتاب الصلاة، باب صلاة الإستسقاء.
[33] . فرائد السمطين في فضائل المرتضى و البتول و السبطين و الائمة من ذريتهم عليهمالسلام: ج 1، ص 49، باب اول، حديث 1.
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے