پيشکش: سيد اشھد حسين نقوي

امام حسين عليہ السلام نے 3/ شعبان سن 4 ہجري کو مدينہ منورہ ميں پيدا ہو کرسرکار دوعالم صلي اللہ عليہ والہ سلم کي ا?غوش ميں پرورش پائي (1) اور ا?پ ہي سے کسب فيض و صفات کرتے رہے، ??/ صفر سن ?? ہجري کو جب آنحضرت صلي اللہ عليہ والہ سلم اپنے محبوب حقيقي سے جاملے (2) اور حادثات نے ?/ جمادي الثانيہ کو مادر گرامي کي شفقتوں سے بھي محروم کرديا (3) تو حضرت علي عليہ السلام نے تعليمات الہيہ اور صفات حسنہ سے ا?پ کو بہرہ ورکيا?
21/ رمضان 40 ہجري کو پدر کے سايہ عطوفت سے محرومي (4) کے بعد امام حسن عليہ السلام نے ا?پ کي ذمہ داري اپنے سرلي ، امام حسن عليہ السلام نے مختلف استمداد ، خانداني استعانت اور فيضان باري ميں کسي قسم کي کمي نہ چھوڑي ، مگر ??/ صفر سن ?? ہجري کو امام حسن عليہ السلام کي شہادت بھي امام سوم کے لئے مصيبتوں کا پہاڑ بن کر سامنے ا?ئي (5)?
امام حسين عليہ السلام جد امجد ، والد بزرگوار، مادرگرامي اور محترم بھائي کي شھادت کے بعد صفات حسنہ اور الطاف الھيہ کا واحد مرکز بن گئے، يہي وجہ ہے کہ آپ ميں جملہ صفات حسنہ موجود تھے اورآپ کے طرزحيات ميں محمد صلي اللہ عليہ والہ سلم ، علي عليہ السلام ، فاطمہ سلام اللہ عليہا اور حسن عليہ السلام کا کردارنماياں تھا ، آپ نے جوکچھ بھي انجام ديا قرآن و حديث کي روشني ميں ديا جيسا کہ مقاتل ميں مرقوم ہے کہ کربلا ميں جب امام حسين عليہ السلام رخصت آخري کے لئے خيمہ ميں تشريف لائے تو جناب زينب سلام اللہ عليہا نے فرمايا کہ اے خامس آل عبا آج ا?پ کي جدائي کے تصور سے ايسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد مصطفي ، علي مرتضي ، فاطمتہ الزہراء اور حسن مجتبي عليہم السلام ہم سے جدا ہو رہے ہيں ?
محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے پيارے نواسے، علي و فاطمہ سلام اللہ عليھم کے سورما بيٹے ، حسن عليہ السلام کے چہيتے بھائي کي مصيبتوں کے درد کي سوزش ا?ج تک تاريخ کے سينے ميں محفوظ ہے ، ھرسال ماہ غم ، ماہ محرم کي ا?مد ا?مد پر حق کے پيرو اور حقيقت کے طلبگاروں کي ا?نکھوں ميں ا?نسووں کے امنڈ پڑتے ہيں ?
وہ حسين عليہ السلام جس کے نظام انفاس کي اطمينان کي زد ميں ا?کر ميدان کربلا کي باد سموم کا دم ٹوٹ گيا تھا، جس کے لبوں کي خشکي ديکھ کر فرات کي موجيں آب آب ہو کر رہ گئي تھيں اور جس کے چہرے کي شادابي کو ديکھ کر کربلا کے تپتے سورج کے ماتھے سے پسينے کي بونديں ٹپکنے لگي تھيں?
وہ حسين عليہ السلام جس نے اس رادے سے کہ ايوان حق کے چراغوں پر کوئي آنچ نہ آسکے اپنے گھر کے تمام چراغوں کو بجھا ديا اور ناموس انساني کو بچانے کي خاطر، فولاد کو پگھلا دينے والے عزم اور زلزلوں کي سانس اکھاڑ دينے والے ثبات کے ساتھ موت سے ٹکر لي تھي ، اور ايسي ٹکر کہ موت کي پيشاني سے لہو کا فوارہ جاري ہوگيا تھا?
حسين عليہ السلام ناتواں تھے يزيد توانا تھا قانون قدرت کے مطابق ہونا چاہئے تھا کہ يزيد حسين عليہ السلام کو شکست دے کر حسينيت کا چراغ گل کرديتا، ليکن ہوا يہ کہ قدرت کے مسلمہ قانون کے برخلاف حسين عليہ السلام کي ناتواني نے يزيد کي توانائي کا گلا گھونٹ کر رکھ ديا اور اپني مقتوليت کي ايک ضرب سے قاتل کو موت کے گھاٹ اتارديا?
وہ موت جس کے صرف تصور سے بڑے بڑے سورما کي پنڈلياں کانپنے لگتي ہيں، جب موت منہ کھولے حسين عليہ السلام کے سامنے آئي تو حسين عليہ السلام اسے ديکھ کر ايسي حقارت کے ساتھ مسکرائے کہ خود موت کي نبضيں ڈوبتي نظر ا?ئيں ?
سب سے زيادہ حيرت اس بات پر ہے کہ اس وقت بھي جب تيروں کا موسلادھار مينہ برس رہا تھا، ان کے تمام انصار و اقرباء موت کي نيند سو چکے تھے اور حسين عليہ السلام اپنے دوستوں اور جگر گوشوں کي لاشيں ميدان سے اٹھا اٹھا کر بار بار خيمے کي طرف جا رہے تھے ، اور ان کا قتل ايک يقيني امر بن چکا تھا عين اس نازک اور مہلک لمحہ ميں بھي ان کے حواس سلامتي سے ھمکنار تھے اور جب محسوس کيا کہ ہيبت باطل سے حق کا چہرہ سفيد ہوچلا ہے تو حق کي رگ حيات ميں بڑے اطمينان کے ساتھ اپنا خون روانہ کر رہے تھے? اور صرف يہي نہيں کہ اس يقيني جاں کني کے موقع پر ان کے حواس بجا تھے، بلکہ تاريخ انساني کي سب سے بڑي قرباني دينے کے بعد بھي دين کے اس نامور سپاہي کے چہرے پر فخر و مباہات کي ايک معمولي سي دھاري بھي رونما نہيں ہوئي تھي اور ان کي زبان سے ايک ايسا آدھا لفظ بھي ادا نہيں ہوا جس سے پتہ چلتا کہ وہ يہ کہہ رہے ہوں اے اہل اسلام ميں نے غيرت اسلام کے آفتاب کو ڈوبنے سے بچا کر تم پر احسان کيا ہے اور ميں نے اپنے واسطے يہ حق خريد ليا ہے کہ تم مجھ کو ايثار کا ديوتا سمجھ کر ميرے سامنے اپني گردنيں جھکا لو?
اے حسين عليہ السلام ? اے دريائے زہر سے آب حيات پينے والے ? اے بپھرے طوفان کو اپنے سفينے ميں ڈبو دينے والے ? اے حريم شہادت کے سب سے اونچے منارے اے ہمت مردانہ کے اوتار اور اے ثبات و عزم کے پروردگار ? ازل سے لے کر ابد تک کي انسانيت کا غلامانہ سلام قبول کر!
???????????????????????????
حوالے :
1- اعلام الورى طبرسى ، ص 213.
2 - الاستيعاب ؛ يوسف ابن عبدالبر، ج1، ص52
3- مناقب ابن شهر آشوب ، ج3، ص357 ? بحار الانوار ، علامہ مجلسي ، ج43، ص6 ? حيات القلوب، ج2، ص149 و وافي فيض کاشاني ، ج1، ص173 ?
4 - سيره معصومان ، سيد محسن امين، ج 3 ص 4 و ص 736 ?
5 - زندگانى امام حسن مجتبى عليه السلام، سيد هاشم رسولى محلاتى ، ص465 ?
3- مناقب ابن شهر آشوب ، ج3، ص357 ? بحار الانوار ، علامہ مجلسي ، ج43، ص6 ? حيات القلوب، ج2، ص149 و وافي فيض کاشاني ، ج1، ص173 ?
4 - سيره معصومان ، سيد محسن امين، ج 3 ص 4 و ص 736 ?
5 - زندگانى امام حسن مجتبى عليه السلام، سيد هاشم رسولى محلاتى ، ص465 ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے