03 December 2012 - 16:42
خبر کا کوڈ: 4852
فونت
آيت الله نوري همداني:
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله نوري همداني نے غزہ کي اٹھ روز جنگ ميں صھيونيت پر استقامت کي پيروزي کو اسلام کي طاقت کا مظھر جانا اور جھادي ثقافت اور ظلم و ستم سے مقابلہ اسلامي تعليمات کا لازمہ جانا ?
حضرت آيت الله نوري همداني

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله حسين نوري همداني نے اج ظھر کے سے پہلے پوليس افسروں سے ملاقات ميں غزہ کي اٹھ روزہ جنگ ميں اسقامت کے مزائلي حملوں کو اسلام کي قدرت کا مظھر جانا اور کہا: اسقامت نے ايراني مزائلوں کے سہارے صھيونيت کے فولادي محل کي ديواروں کو راکھ کے ڈھير ميں تبديل کرديا ، اور ايران کي مسلح فورس کي ذمہ داري ہے کہ اسلامي طاقتوں ميں مزيد استحکام لائيں ?

انہوں نے ملک ميں امن و امان کي حکمراني کو افضل ترين عبادتوں ميں شمار کرتے ہوئے کہا: اپ اپنے وظائف پر فخر کريں، اس راہ ميں جتنا بھي قدم اٹھائيں گے وہ عبادت ہے ، پوليس افسران عوام کے خدمتگزار رہيں اور اس مقام پر فخر کريں جيسا کہ امام خميني(رہ) خود کو عوام کا خادم جانتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے ، اگاہ رہيں کہ يہ کرسي اور ٹيبل جو اپ کے اختيار ميں ہے عوام کي جانفشانيوں کا نتيجہ ہے ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج کے استاد نے جھادي ثقافت ، ظلم وستم سے مقابلہ اور ملک ميں امنيت کي فراھمي کو قران کريم کي ايات کے تحت جانا اور کہا: امام خميني(ره) ان ثقافتوں کے احياء کے ساتھ اسلام کو عوام کي حيات ميں لاتے تھے ?

انہوں نے ايمان اور اعتقاد کو انسانوں کا عظيم سرمايہ جانا اور کہا: الھي انبياء کي اھم ترين ذمہ دارياں يہ تھيں کہ اجرائي صلاحيتوں کو ايمان کے نام پر انساني روح ميں پھونک ديں ?

اس مرجع تقليد نے اسلام دشمن عناصر کي جانب سے ھمہ جانبہ حملہ کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اج دشمنوں کي کوشش يہ ہے کہ لوگوں کے ايمان کو سست کرسکيں اور ھم ان کي تمام سازشوں سے ھوشيار رہيں ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج فقہ و اصول کے استاد نے سوره ص کي ايت کي تفسير ميں کہا: خداوند متعال کا فرمان ہے کہ ھم نے زمين و ا?سمان اور اس دنيا کو باطل اور بے مقصد خلق نہيں کيا ، انسان ائمہ عليھم السلام کے برخلاف ناقص پيدا کئے گئے اور اس دنيا ميں ترقي و برتري کے لئے اتے ہيں ، دنيا کي خلقت کا مقصد انساني ترقي کا زمينہ فراھم کرنا ہے کہ اس راستہ کو فقط دين اسلام کي ھمراہي ميں طے کيا جاسکتا ہے ?

حضرت آيت الله نوري همداني نے قيامت پر يقين کو خدا کي عدالت و حکمت پر مبتني جانا اور کہا: اس دنيا ميں جيسا کہ ظالم اپنے ظلم کي سزاوں کو نہيں ديکھ سکتا ، خدا کا اطاعت گزار بندہ بھي جزاوں کو نہيں ديکھ سکتا اسي بناء پر ايک دن ہو جس دن خدا مظلوموں کا ظالموں سے انتقام لے سکے اور ھر کسي کو اس کا حق دے سکے کيوں کہ متقي افراد ھرگز بدکاروں کے برابر نہيں ہوسکتے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ خداوند متعال نے ھر انسان کے وظائف کو دين کے دائرے معين کيا ہے کہا: اگر زندگي ميں الھي قوانين پر عمل نہ کيا جائے تو نتيجہ بھي مناسب ہاتھ نہيں ائے گا اور متوجہ رہيں کہ ايمان اور اعتقادات دونوں الھي قوانين کے اجراء کے ضامن ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬