آيتالله جوادي آملي:

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حوزہ علميہ قم ايران ميں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے ا?ج مسجد اعظم قم ميں علماء و افاضيل و طلاب کي شرکت کہ ساتھ سورہ مبارکہ عنکبوت کي ابتدائي ا?يات کي تفسير بيان کي ?
انہوں نے اس ا?يت « مَن کَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّـهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ لَآتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ » کي تلاوت کرتے ہوئے بيان کيا : قرا?ني کي بہت سي ا?يات ميں ذات اقدس الھ کو اسماء حسنہ سے بيان کيا گيا ہے، بعض روايت ميں بيان ہوا ہے کہ خداي سبحان کو اس صفات سے نہ پکارو ، يہ روايت خداي سبحان کو زائد بر ذات اوصاف پر وصف کرنے پر ناظر ہے ، ايسا نہيں کہا جائے کہ اللہ عليم بالعلم ہے کہ يہ نظريہ بعض اھل سنت رکھتے ہيں ، يہ وصف امکاني موجودات کے لئے ہے بلکہ کہا جائے اللہ بالذات عليم ہے ?
آيت الله عبدالله جوادي آملي نے نہج البلاغہ کے خطبہ کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : نہج البلاغہ کے اول خطبہ ميں ان روايت اور ا?يات کو اچھي طرح جمع کئے جانے کا مشاھدہ کيا جا سکتا ہے ، نہج البلاغہ کے اول خطبہ کے ابتدا و انتہا ميں خدا کے وصف کو بيان کيا گيا ہے اور اسي خطبہ ميں کہا گيا ہے کہ کمال اخلاص خداوند متعال سے صفات کي نفي ميں ہے ، اس سلسلہ ميں دو دليل پيش کي گئي ہے وہ يہ کہ جو صفت بھي اس بات کي گواہي دے کہ وہ غير موصوف ہے تو پھر خداوند متعال کو اس سے وصف نہي کيا جا سکتا ہے ، کيونکہ ھر موصوف گواہي ديتا ہے کہ وہ غير صفت ہے تو پھر خداوند عالم کو اس سے وصف نہي کيا جا سکتا ہے ، جب کہتے ہيں کہ خداوند عالم عليم ہے اگر يہ علم ذات پر زائد ہو اور محمول بالضميمہ ہو يہ قضيہ اس کے ملحقات کي طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ روايات جس ميں بيان کيا گيا ہے کہ خداوند متعال کو عظمت سے وصف نہ کرو يعني وہ عظمت جو ذات پر زائد ہے اس سے وصف نہ کرو ، يہ ا?يات جو کہ صفات خدا کو بيان کر رہي ہيں يہ اوصاف ذاتي ہيں اور وہ عين ذات ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے