حجت الاسلام رمضان توقير پاکستان:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، شيعہ علماء کونسل خيبر پختونخوا کے صدر حجت الاسلام محمد رمضان توقير نے 14 دسمبر کے عظيم احتجاج ميں پورے پاکستان کے شيعوں سے شرکت کي استدعا کي ?
انہوں نے حکومت پاکستان کو اپنے دور اقتدار کے ا?خري لمحات ميں شمار کرتے ہوئے کہا: اگر شيعہ ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ نہ رکا تو ملک بھر ميں کراچي طرز کے احتجاجي دھرنوں کا ا?غاز ہو جائے گا ?
حجت الاسلام رمضان توقير نے 14 دسمبر کو ہونے والے احتجاج کو ملک و ملت کے مفيد جانا اور کہا: اس کے اثرات صرف کراچي تک محدود نہيں رہيں گے بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے ?
شيعہ علماء کونسل خيبر پختونخوا کے صدر نے ملک کي موجودہ صورتحال کو انتہائي گھمبير بتاتے ہوئے کہا: خيبر پختونخوا ميں امن و امان کي صورتحال انتہائي خراب ہے، کبھي ڈيرہ اسماعيل خان، کبھي بنوں تو کبھي چارسدہ ميں دھماکے ہو رہے ہيں، ليکن ا?ج تک کوئي شنوائي نہ ہوئي اور نہ حکومت نے دہشتگردي کے اس سلسلہ کو روکنے کيلئے کوئي ٹھوس اقدامات کئے?
انہوں نے ڈيرہ اسماعيل خان کي صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا : عشرہ محرم احرام کے دوران وہاں اتنا بڑا نقصان ہوا ليکن کوئي گھيراو جلاو نہيں ہوا، سلام ہو ملت تشيع کے نوجوانوں اور عمائدين کو جنہوں نے اتنے بڑے سانحہ کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کيا اور ايک سوئي تک کا نقصان نہيں ہوا?
حجت الاسلام رمضان توقير نے مزيد کہا : يہ اس بات کي دليل ہے کہ ہم پاکستان کے ہمدرد اور خير خواہ ہيں، ليکن انتظاميہ کي جانب سے کوئي نتيجہ ديکھنے کو نہيں ملا ?
دوسري جانب شيعہ علماء کونسل ضلع ملير کے صدر حجة الاسلام مولانا شيخ منظور نے 14 دسمبر کے دھرنے کو پرامن طريقے سے منانے کي تاکيد کرتےہوئے کہا: ملت جعفريہ پر مظالم کي انتہا ہو چکي ہے اور ہم ہر روز جنازے اٹھا رہے ہيں-
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ حکومت اور رياستي ادارے شہر ميں امن قائم کرنے ميں ناکام ہوگئے ہيں جس کي وجہ سے شيعہ مسلمانوں کي ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پر پہنچ گئي ہے تاکيد کي : اب خواتين کو بھي نشانہ بنايا جارہا ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے